Prayers & Meditations

Urdu · حضرت بہاء اللہ

Add range:
##بڑی دُعائے شفا اس خدا کے نام سے جو شافی ہے، کافی ہے، ناصر ہے، رحمان ہے اور رحیم ہے میں تجھے پکارتا ہوں اے برتر خدا، اے باوفا خدا، اے پُر جلال خدا! تو ہی کافی ہے تو ہی شافی ہے تو ہی باقی ہے اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے سلطان خدا، اے بلند خدا، اے منصف خدا، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے واحد خدا، اے بے نیاز خدا، اے بے مثل خدا! تو ہی کافی ہے تو ہی شافی ہے تو ہی باقی ہے اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے پاک خدا، اے مقدّس خدا، اے مدد فرمانے والے خدا تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے علیم خدا، اے حکیم خدا، اے عظیم خدا، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے مہربان خدا، اے شان والے خدا، اے قائم رہنے والے خدا، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے معشوق خدا، اے مسرور کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے غالب خدا، اے مددگار خدا، اے قدرت والے خدا، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے حاکم خدا، اے قائم خدا، اے سب کچھ جاننے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو روح ہے، اے خدا جو روشنی ہے، اے خدا جو سب سے زیادہ ظاہر ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو سب میں معمور ہے، جو سب میں مشہور ہے، جو سب میں مستور ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے پوشیدہ خدا، اے غالب خدا، اے عطا کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے قدرت والے خدا، اے نصرت دینے والے خدا، اے پردہ پوش خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے،اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خالق خدا، اے اطمینان دینے والے خدا، اے جڑ سے اکھاڑنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، توہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے طلوع کرنے والے خدا، اے جمع کرنے والے خدا، اے بلند و برتر خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے،اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے کامل خدا، اے مختار خدا، اے فیاض خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے منفعت دینے والے خدا، اے دستگیر خدا، اے بیماریوں کو روکنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے جلال والے خدا، اے جمال والے خدا، اے فضیلت والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے عدل کرنے والے خدا، اے فضل کرنے والے خدا، اے عطا فرمانے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے قائم رکھنے والے خدا، اے ابدی خدا، اے سب سے زیادہ جاننے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے بڑی عظمت والے خدا، اے سب سے قدیم خدا، اے سب سے بڑھ کر کرم کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے حاکم خدا، اے قائم خدا، اے سب کچھ جاننے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو محفوظ ہے، جو سب میں مشہور ہے، جو مسرّت دینے والا ہے، جو سب کا مطلوب ہے ، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو سب سے بڑھ کر مہربان ہے، جو سب سے زیادہ شفیق ہے، جو سب سے زیادہ لطف و کرم فرمانے والا ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو سب کی پناہ گاہ ہے، سب کا پشت پناہ ہے، جو سب کی حفاظت کرنے والا ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، توہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو سب کا مددگار ہے، جس کو سب ہی پکارتے ہیں، جو سب کو زندہ کرنے والا ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، توہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے مشکل کُشا خدا، اے غم مٹانے والے خدا، اے توجہ کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو میری جان ہے، جو میرا جانان ہے، جو میرا ایمان ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے پیاس بجھانے والے خدا، اونچی شان والے خدا، بڑے مرتبے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے بڑے ذکر والے خدا، اے قدیم نام والے خدا، اے بڑی شان والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے محبوب ترین خدا، اے پاک خدا، اے پاکیزہ خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے مشکل حل کرنے والے خدا، اے بھلائی دینے والے خدا، اے نجات دینے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، توہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے محبت والے خدا، اے طبیب خدا، اے فریفتہ کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو جلال ہے، اے خدا جو جمال ہے، اے خدا جو فیاض ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے لائق اعتماد خدا، اے بہترین محبوب خدا، اے سویرا کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے چراغ روشن کرنے والے خدا، اے روشنی پھیلانے والے خدا، اے خوشی لانے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے بڑی بخشش والے خدا، اے سب سے بڑھ کر مہربان خدا، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے توبہ قبول کرنے والے خدا، اے حاجت روا خدا، اے رحم دل خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے ثابت خدا، اے زندگی بخشنے والے خدا، اے ہر چیز کے منبع خدا ،تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے تمام چیزوں کے محافظ خدا، ہر چیز کو دیکھنے والے خدا، دکھوں کو دور پھینکنے والے خدا، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے خدا جو ظاہر ہوتے ہوئے پوشیدہ ہے، اے خدا جو آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوئے بھی عیاں ہے، اے جو دیکھنے والا ہے اور دیکھا جاتا ہے، تو ہی کافی ہے، تو ہی شافی ہے، تو ہی باقی ہے، اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے عاشقوں کے قاتل خدا، اے گناہ گاروں کو عطا کرنے والے خدا، اے کافی میں تجھے پکارتا ہوں، اے کافی! اے شافی میں تجھے پکارتا ہوں اے شافی!اے باقی میں تجھے پکارتا ہوں اے باقی، تو ہی باقی ہے، اے باقی تو پاک ہے اے میرے خدا میں تیری بخشش سے جس کے ذریعے تو نے فضل و عطا کے دروازے کھول دئیے جس کے ذریعے تیری ہیکل قدس نے بقا ء کے عرش پر قرار پکڑا اور تیری رحمت کے وسیلے سے جس سے تو نے ممکنات کو اپنی بخشش اور انعام کے دسترخوان پر مدعو کیا اور تیری عنایت کے وسیلے سے جس کے ذریعے تو نے اپنی ذات میں آسمانوں اور زمینوں کی تمام مخلوق کی طرف سے ندا کا جواب کلمہ بلٰی کے ساتھ دیا جب تیری عظمت و سلطنت کا ظہور ہوا اور تیری حکومت طلوع ہوئی اور پھر میں تیرے عظیم اسمائے حسنیٰ سے،تیری برتر صفات علیا سے تیرے اعلیٰ ذکر سے اور تیرے پاکیزہ جمال سے اور تیرے نور سے جو نامعلوم خیموں میں پوشیدہ ہے اور تیرے نام سے جو ہر صبح و شام کو نئی مصیبت کا جامہ پہنتا ہے، سوال کرتاہوں کہ تو اس ورق مبارک کے حامل کی حفاظت فرما۔ پھر اس کی حفاظت کرجو اُسے پڑھے پھر اس کی حفاظت کر جس کیلئے پڑھا جائے پھر اس کی حفاظت کر جو اس گھر کے اردگرد پھرے جس گھر میں یہ ورق موجود ہو۔ پھر تو اس کے ذریعے ہر مریض علیل اور فقیر کو ہر بلا سے اور ناپسندیدہ عمل سے اور آفت سے اور حزن و ملال سے محفوظ رکھ پھر اس کے ذریعے ہر اس آدمی کو ہدایت دے جو تیری ہدایت کی راہوں اور تیرے فضل و غفران کے طریق پر چلنا چاہتاہے اور یقیناًتو کافی، شافی، حافظ، معطی،رؤف اوررحیم ہے۔
ہواللہ اے عاشقوں کی انتہائی آرزو! اے بھٹکے ہوؤں کے راہنما! تو نے اس ناتوان بندے کو اپنے بے پایاں الطاف سے نوازا اور تو اس بیچارے ذلیل کو اپنی درگاہ احدیت میں لایا، اس پیاسے کو تو نے اپنی عنایت کے چشمہ سے پلایا، اس افسردہ بے جان کو نسیم رحمت سے تروتازہ فرمایا۔ تیرا شکر کہ تو نے اپنے فضل اکبر سے کامل عنایت فرمائی اور روضہ مبارک پر مشرف ہونے کی سعادت بخشی۔ تیرے نورانی ملکوت کے فیض سے بے پایاں حصہ چاہتا ہوں۔ موفق فرما اور عنایت کر۔
اے میرے معبود! اے میری نار! اے میرے نور! میں اُن ایام میں داخل ہو گیا ہوں جن کا تونے اے مالک اسماء اپنی کتاب میں ایّام ھا نام رکھا ہے اور میں تیرے ان دنوں کے قریب آگیا جن میں تو نے عالم ہستی کے باشندوں پر اپنے قلم اعلیٰ سے روزے فرض ٹھہرائے ہیں۔ اے پرودرگار! ان ایّام کے وسیلے اور ان لوگوں کے طفیل جنہوں نے ان دنوں میں تیرے اوامر کی رسی اور احکام کے حلقہ کو مضبوط تھام لیا ہے۔ میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو ہر شخص کو اپنے قرب میں قرار گاہ اور اپنے منوّر ظہور کے حضور مقام عطا فرما دے۔ اے پرودگار! یہ وہ بندے ہیں جنہیں نفسانی خواہش ان کاموں سے نہ روک سکی جو تو نے اپنی کتاب میں نازل فرمائے ہیں۔ ان کی گردنیں تیرے حکم کے آگے جھک گئیں اور انہوں نے تیری ہی عطا کردہ قوت سے تیری کتاب کو تھام لیا اور تیری بارگاہ سے جو حکم ملا اس پر عمل کیا اور جو کچھ ان کے لئے تیری جانب سے نازل ہوا انہوں نے وہی پسند کیا۔ اے پروردگار! تو دیکھتا ہے کہ یہ بندے ان سب باتوں کو مانتے اورقبول کرتے ہیں جو تو نے اپنی الواح میں نازل فرمائی ہیں۔ اے میرے پروردگار! اپنی رحمت و عطا سے انہیں جامِ بقا پلا دے۔ پھر ان کے لئے دریائے بقا میں غوطہ لگانے والے اور شراب وصال پینے والے کا اجر لکھ دے۔ اے بادشاہوں کے مالک! اور بندوں پر رحم کرنے والے! تو ان کے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی مقدر فرما دے۔ پھر ان کے لئے وہ چیز لکھ دے جسے تیری مخلوق میں سے کوئی نہیں پہچانتا۔ پھر ان لوگوں میں سے بنا دے جو تیرے جہانوں میں سے ہر جہان میں تیرااور تیرے عرش کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ بے شک تو صاحب اقتداراور علیم و خبیر ہے۔
ہواللہ اے مقبلان، اے موقنان، بارگار نیاز میں شکرانے کا ہاتھ بلند کرو اور اس ترانے کا آغاز کرو۔ اے پروردگار! تیرا شکر کہ تونے ان بینواؤں کو پُر نوا فرمایا اور ان گمراہوں کو راہ ہدایت دکھائی۔ ظلمت کے اندھیروں سے نجات بخشی اور احدیت کے فیض انور سے انہیں خوش نصیب و بہرہ ور فرمایا۔ ہم سب بے خبر اور بیگانے تھے تو نے ہمیں آشنا و آگاہ کیا۔ فقیر تھے، دولت عظمیٰ بخشی، علیل تھے شفادی۔ اسیر تھے رہائی بخشی۔ پژمردہ تھے تروتازگی عطا کی۔ افسردہ تھے گرمی جہان سوز عنایت کی۔ اے یزدان مہربان! اپنی پناہ احدیت میں محافظت فرما۔ تاکہ نفس و ہویٰ کی بدرنگیوں سے ہم محفوظ رہیں اور تیری عون و عنایت کے سیپ میں مصفا اور مکنون موتیوں کی طرح مامون و محفوظ رہیں۔ ہر آن نئی روح اور زندگی سے منور کر اور ہر دم اپنے دَم مشکبار سے ہمارے مشام معطر فرما اور اپنے آستان مقدس کی عبودیت پر موفق کر۔
ھواللہ اے میرے یزدان! یہ نورانی ارواح تیرے افق ہدایت کے روشن ستارے ہیں۔ ان کے چہروں کو اپنی ملکوت احدیت میں روشن فرما اور یہ تیرے عشق و استقامت کے باغ کے درخت ہیں، اپنی عنایت کے ابر کی پُر فیض بار ش سے انہیں ہر آن تروتازہ و پُر لطافت و نوبہار رکھ، تیرے عرفان کے چراغ ہیں، انجمن عالم میں انہیں روشن کر، میدان ثبات و استقامت کے شہسوار ہیں، ملکوت ابہیٰ کے لشکروں سے ان کی تائید فرما۔ بیابان اشتیاق کے پیاسے ہیں، دریائے الطاف کے ساحل پر انہیں پہنچا دے ۔ ہر آن نصرت فرما اور ہر گھڑی نئی روح انہیں عنایت کر۔ گلشن عنایت کی نسیم سے ان کے دلوں کو روح و ریحان عطا کر اور اپنی مہربانی کے باغ کی شمیم سے ان کے مشام کو معطر فرما۔ تو ہی مقتدر و توانا، کریم اور رحیم و مہربان ہے۔
الٰہی الٰہی اپنے دوستوں کی حفاظت فرما۔ تو ہی وہ کریم ہے کہ تیری بخشش تمام عالم پر محیط ہے۔ اپنے بندوں پر رحم فرما اور ان اعمال و اخلاق اور اقوال کی توفیق دے جو تیرے ایام ظہور کے لائق ہیں۔ تیرے ایک بلند کلمے سے بخشش کا سمندر موجزن ہے اور تیرے آفتاب امر کی ایک کرن سے بخشش و مغفرت کا آفتاب ظاہر و نمودار ہو رہا ہے۔ سب تیرے ہی بندے ہیں اور تیرے کرم کی امید میں زندہ ہیں۔ اپنی قدرت کا ہاتھ قوت کی جیب سے نکال اور کیچڑ میں پڑے ہوئے لوگوں کو نجات دے۔ توہی ہے ارادے کا مالک اور بخشش کا بادشاہ۔ تیرے سوا کوئی خدا نہیں، تو ہی سب پر غالب اور بخشش فرمانے والا ہے۔
اے وہ کہ تیرا چہرہ ہی میرا کعبہ ہے۔ اور تیرا جمال میرا حرم ہے۔ تیری سمت ہی میری منزل مقصود ہے۔ تیری یاد ہی میری تمنا ہے۔ تیرا عشق ہی میرا موجب حیات ہے۔ تیری محبت ہی میری مونس جان ہے۔ تیرا ذکر ہی میرا انیس زندگی ہے۔ تیرا قرب ہی میری آرزو، اور تیرا وصل میری انتہائے تمنا اور منتہائے مقصود ہے۔ میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ ان نعمتوں سے مجھے محروم نہ ہونے دے جو تو نے اپنے بہترین بندوں کے لئے مقدر فرمائی ہیں اور دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما۔ بیشک توہی تمام کائنات کا سلطان ہے۔ تیرے سوا کوئی خدا نہیں۔ توہی بخشنے والا کرم فرمانے والا ہے۔
اے میرے پروردگار! میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ تو نے مجھے اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں تجھے پہچانوں اور تیری پرستش کروں۔ میں اس وقت اپنے عجز اور تیری قوت، اپنے فقر اور تیری غنا اور اپنے ضعف اور تیرے اقتدار کا اقرار کرتا ہوں۔ بے شک تیرے سوا کوئی خدا نہیں، توہی ہے محافظ اور مہیمن اے خدا۔