Ridván Messages

Urdu · Universal House of Justice

احبائے عزیز

اب جبکہ مقدس جشن اعظم قریب آ گیا ہے ہم شکر گزاری اور توقعات کے احساسات کی وجہ سے بہت منجذب ہو گئے ہیں۔ شکر گزاری ان حیرت انگیز کامیابیوں کی وجہ سے ہےجنہیں حضرت بہاء اللہ نے اپنے پیروکاروں کو حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے اور توقعات وہ ہیں جو مستقبل قریب میں پوری ہونے والی ہیں۔

وہ زورِ رفتار جو حضرت بہاء اللہ کے دو صد سالہ میلادکےجشن مقدس نے پیدا کیا تھا اس میں اس وقت سے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جامعہ بہائی کی ترقی اور نشوونما میں تیزی سے ہوتااضافہ، اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت و استعدا اور اس کی اپنے اعضاء کی طاقت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہونے والی عالمگیر کامیابیوں سے نمایاں ہوتی ہے۔ ان کامیابیوں میں جامعہ کی تعمیری فعالیتوں میں اضافہ نمایاں نظر آتا ہے۔ جاری پنجسالہ منصوبہ عالمی جامعہ بہائی کی بیس سالہ جد و جہد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے تاکہ وہ ان فعالیتوں میں زیادہ عمدگی پیدا کرتے ہوئے ان میں اضافہ کرے۔ لیکن یہ بات نمایاں نظر آتی ہے کہ منصوبہ کے پہلے اڑھائی سالوں کے دوران صرف بنیادی فعالیتوں میں نصف سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمگیر جامعہ بہائی نے اپنی یہ صلاحیت دکھائی ہے کہ وہ کسی بھی وقت ممکن بنا سکتا ہے کہ وہ ان فعالیتوں میں دس لاکھ سے زیادہ آدمیوں کو مصروف و مشغول کرسکے اور ان کو روحانی حقائق کی تلاش میں مدد دے سکے اور ان پر عمل بھی کر سکے۔ اسی مختصر عرصہ میں دُعا و مناجات کے جلسات میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ جواب ہے جس کی نوع انسان کی اُمید اور عنایات کے ملکوتی ماخذ کے ساتھ اختیار کی گئی روز افزوں اجنبیت کے لئے اشد ضرورت ہے۔ اس ابھرتی ترقی کے ساتھ ایک خصوصی اُمید وابستہ ہے کیونکہ دُعا و مناجات کے جلسات جامعہ کی زندگی میں ایک نئی روح پیدا کر دیتے ہیں۔ تمام عمروں سے وابستہ تعلیمی مساعی کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ سے وہ ان مساعی کے اعلیٰ مقصد کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کلسٹروں کے سوا وہ کسی جگہ اس قدر نمایاں نہیں ہیں جہاں بہائی کاوشوں میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت برقرار رکھی جاتی ہے اور احباب نے جامعہ کی ترقی کا تیسرا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ہم یہ دیکھ کر بہت مسرور ہوئے کہ ان کلسٹروں کی جہاں یہ عمل اس حد تک ترقی کرکے پہنچ گیا ہے۔ تعداد اس منصوبہ کی ابتدا سے لے کر اب تک دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے اور اب یہ تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی ہے۔

یہ مختصر جائزہ اس کایا پلٹ کو پوری طرح بیان نہیں کر سکتا جو واقع ہوتی جارہی ہے۔ منصوبہ کے بقایا دو سالوں کا منظر بہت روشن ہے۔ گزشتہ سال کے دوران بہت کچھ نشوونما اور بڑھوتری کے نسبتاً مضبوط پروگراموں سے سیکھے گئے ان اسباق کو وسیع انداز میں پھیلانے سے حاصل کر لیا گیا ہے جو ایسے کلسٹروں میں جاری ہیں جو ہماری اُمیدوں کے مطابق علم اور وسائل کے ذخیرےبن گئے ہیں۔ انٹرنیشنل ٹیچنگ سنٹر، مشاورین اور ان کے ان تھک معاونین اس وقت تک نہیں رکتے جب تک یہ یقینی نہ ہو جائے کہ پوری دنیا میں موجود احباب سیکھنے کے اس عمل میں تیزی آنے سے مستفید ہو رہے ہیں اور حاصل شدہ بصیرتوں کو اپنے حقائق کے اندر استعمال میں لا رہے ہیں۔ ہم یہ دیکھ کر نہایت مسرور ہیں کہ کلسٹروں اور ان کے اندر موجود محلوں اور دیہاتوں کی روز افزوں تعداد میں احباب کا ایک سلسلہ پیدا ہو گیا ہے جو عمل اور غورو فکر کے ذریعے یہ دریافت کر رہا ہے کہ کسی خاص مقام پر گردو پیش میں بڑھوتری کے عمل میں پیش رفت لانے کے لئےکس چیز کی ضرورت ہے۔ وہ انسٹیٹیوٹ کے مؤثر آلۂ کار سے استفادہ کر رہے ہیں جس کے ذریعے جامعہ کی روحانی اور مادی خوشحالی میں اضافہ کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور جیسے ہی وہ اس پر عمل کرتے ہیں تو شرکت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ قدرتی بات ہے کہ ہر جگہ کی صورت حالات میں بہت فرق ہوتا ہے اور اسی طرح بڑھوتری اور نشوونما کی خصوصیات میں بھی۔ لیکن منظم جد و جہد کے ذریعے ہر ایک سامنے موجود کرنے والے کام میں زیادہ سے زیادہ مؤثر امداد فراہم کر سکتا ہے۔ ہر قسم کی صورت حالات میں اس بات میں خالص خوشی حاصل ہوتی ہے کہ دوسرے اشخاص کو بامعنی اور رفعت پیداکرنے والی گفتگو میں مصروف کیاجائے جو جلدی سے یا بتدریج روحانی امکانات اور احساسات کے تحرکات کی طرف لے جاتی ہے۔ مومن کے دل میں شعلہ جس قدر روشن ہو گا اسی قدر اس سے وابستہ ہونے والوں کو قوت جاذبہ کی گرمی محسوس ہوگی اور وہ دل جس میں حضرت بہاء اللہ کا عشق زیادہ ہو گا تو اس کے لئے اور کیا مناسب مصروفیت تصور کی جا سکتی ہے کہ وہ قربت رکھنے والی روحوں کو تلاش کرے اور جب وہ خدمت کے راستہ پر چلنے لگیں تو ان کی حوصلہ افزائی کرے اور جب وہ تجربہ حاصل کر رہے ہوں تو اُن کا ساتھ دے اور شاید سب سے بڑی خوشی یہ ہو گی کہ وہ روحوں کو اپنے ایمان میں مضبوط ہوتا دیکھے کہ وہ تنہا ہی اٹھ کھڑے ہوں اور اس سفر میں دوسروں کی مدد کریں۔یہ عارضی زندگی جو لمحات فراہم کرتی ہے یہی ان میں سے پسندیدہ ترین لمحات ہوتے ہیں۔

اس روحانی کام میں اضافہ کرنے کے امکانات میں اور زیادہ جوش و جذبہ حضرت باب کے دو صد سالہ جشن کی آمد سے پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے گزرنے والے جشنِ میلاد کی طرح یہ میلاد بھی ایسا موقع ہے جو بے حد و حساب قیمتی ہے۔ یہ سب بہائیوں کو بڑے شاندار مواقع پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو خدا کے اس یوم عظیم کےلئے بیدار کریں جب کثرت کے ساتھ آسمانی عنایات کا نزول ہوا جو ملکوتی ہستیوں کے دو ظہورات کی بدولت عطا کی گئیں۔ ان یکے بعد دیگرے آنے والی روشن ہستیوں نے دنیا کے آفاق کو روشن کردیا۔ آنے والے دو دورانیوں کے دوران کیا کچھ حاصل ہونے کے امکانات ہیں وہ سب کو اس دو صد سالہ جشن کے تجربہ سے معلوم ہے جو دوسال پہلے گذراہے اور جو کچھ اس موقع پر سیکھا گیا تھا اسے اس سال کے دوران دو مقدس جڑواں میلادوں کے منصوبوںکےلئے استعمال میں لایا جانا چاہیئے۔ جیسے جیسے دوصد سالہ میلاد قریب آتا جاتا ہے ہم آپ کےلئے عتبات مقدسہ پر بار بار دعاومناجات کریں گے اور یہ التجا کریں گے کہ آپ کی حضرت باب کو شایان شان عزت و توقیر پیش کرنے کی کوششیں اس امر کو ترقی دینے میں کامیاب ہوں گی جس کی پیش گوئی آپ نے کی تھی۔

عصر تکوین کی پہلی صدی پوری ہونے میں اڑھائی سال باقی ہیں۔ یہ قربانی کے جذبے سے کی جانے والی خدمات پر مہر لگا کر ان کی تصدیق کردے گی کہ وہ ان بنیادوں کو مستحکم اور وسیع کرنے کےلئے کی گئیںجو امر کے دور شجاعت کے دوران قربانیان دے کر تیار کی گئی تھیں۔ اس موقع پر جامعہ بہائی حضرت عبدالبہاء کے صعود کی صد سالہ برسی بھی منائے گا۔اس وقت حضرت سرکار آقا اس دنیا کی قید سےآزاد ہوگئے تاکہ آسمانی عظمت و شان کے محلات میں اپنے والد اقدس کے حضور مشرف ہوسکیں۔ آپ کا جنازہ اگلے روز اٹھایاگیا۔ یہ ایسا موقع تھا "جس کی مثال فلسطین نے پہلےنہیں دیکھی تھی"۔ جنازہ کی تکمیل کے بعد آپ کے وجود پاک کو حضرت باب کے روضہ مبارکہ میں ہی دفن کردیا گیا۔ تاہم حضرت شوقی آفندی نے اس وقت یہ تصور دیا تھا کہ یہ عارضی انتظام ہے۔ آپ کےلئے ایک الگ روضہ تعمیر کیا جائے گا اور اس کی تخصیص یہ ہوگی کہ وہ حضرت عبدالبہاء کے بے مثال مرتبہ کے شایان شان ہوگا۔ اسے مناسب وقت پر تعمیر کیا جائے گا۔

اب وہ وقت آگیا ہے ۔عالم بہائی کو یہ ند ادی جارہی ہےکہ وہ ایک ایسا روضہ تعمیر کریںجس میں آپ کے وجود مقدس کو ہمیشہ کےلئے محفوظ کردیا جائے۔ یہ روضہ باغ رضوان کے قریب اس زمین پر تعمیر ہوگا جس کو جمال مبارک کے قدموں نے متبرک بنایا تھا۔ اس طرح حضرت عبدالبہاء کا روضہ اس ہلال پر تعمیر ہوگا جو عکاء اور حیفا کے روضوں کے درمیان واقع ہے۔ تعمیراتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ آنے والے مہینوں کے دوران مزید معلومات فراہم کی جاتی رہیں گی۔

ہمارے دل انتہائی مسرورو شادمان ہیں جب ہم آنے والے سال کے بارے میں اور ان امکانات کے متعلق غوروفکر کرتے ہیں جو یہ پیش کرتا ہے۔ ہم آپ میں سے ہر ایک کی طرف دیکھتےہیں جو حضرت بہاء اللہ کےلئے خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں اور ہر قوم کے اندرامن کی خاطر محنت و کوشش کررہے ہیں کہ آپ اپنے اس اعلیٰ مقصد کو پورا کریں گے۔

۔ ہم آپ کو ان یادگار واقعات کی پائیدار شفق میں سلام و تہنیت پیش کرتے ہیں جو دو صد سالہ جشن میلاد حضرت جمال مبارک کی علامت بن گئے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں جو کچھ اس وقت واقع ہوا اور جو کچھ بعد میں ہوا تو ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی جامعہ بہائی اب ویسا نہیں رہا جیسا زیرِ عمل منصوبے کے پہلے چھ دورانیوں پر عملدرآمد کی ابتدا کے وقت تھا۔ یہ اپنے مشن میں پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہو چکا ہے۔ اسے احباب اور شناساؤں کو اپنی جامعاتی زندگی کے قریب لانے کی صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ کرنے، دیہاتوں اور قریبی محلوں میں مشترکہ جدو جہد کے لئے شوق پیدا کرنے اور روحانی سچائیوں کو مستقل عمل میں ڈھالنے کا طریقہ واضح کرنے کا ایسا تجربہ حاصل ہوا ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی اور سب سے بڑھ کر انہیں نہ صرف تعلیمات کے بارے میں بات کرنا آ گیا ہے جو دنیا کی نئے سرے سے تعمیر کریں گی بلکہ اس ہستی، حضرت بہاء اللہ کے بارے میں بھی جس نے یہ تعلیمات دیں۔ آپ کی زندگی اور آپ پر وارد ہونے والی اذیتوں کے بارے میں لاتعداد زبانوں میں بڑوں، جوانوں اور بچوں نے بے شمار دلوں کو متاثر کیا۔ کئی ایک نے آپ کے امر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کی، دوسروں نے اس کام میں ساتھ دینے کا عہد کیا اور قبولیت کے حامل کئی اشخاص نے تو متاثر ہو کر ایمان لانے کا اظہار کر دیا۔

2۔ ترقی کی ایک کامیاب نشاندہی اس طرح ہوتی تھی کہ کتنے زیادہ مقامات ایسے تھے جہاں یہ بات واضح نظر آتی تھی کہ امر اللہ قومی سطح پر گمنامی سے باہر نکل آیا ہے۔ کئی ایسے سرکاری رہنما اور فکر و نظر کے ماہر تھے جنہوں نے علی الاعلان بھی کہا اور ذاتی گفتگو کے دوران بھی زور دے کر تسلیم کیا کہ دنیا کو حضرت بہاء اللہ کی بصیرت کی اشد ضرورت ہے اور بہائیوں کی جدو جہد قابل ستائش ہے اور اس میں وسعت پیدا کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ تنہا بہائی ہی حضرت بہاء اللہ کی شان بیان کرنے اور اپ کی زندگی کے بارے میں جشن منانے والے نہیں بلکہ جامعہ بہائی سے باہر کے لوگوں نے بھی اس کے لئے خصوصی اجتماعات منعقد کئے۔ ایسے علاقوں میں بھی جہاں ابھی تک امر کی دشمنی موجود ہے احباب مایوس نہیں رہے۔ اُنہوں نے شاندار برداشت کا مظاہرہ کیا اور ابھر کر اوپر آئے اور اپنے ہم وطنوں کی حوصلہ افزئی کی کہ وہ خود حقیقت کا جائزہ لیں۔ ان میں سے کئی ایک نے تو خوشی خوشی جشن کی تقریبات میں شرکت کی۔ دو صد سالہ جشن کی تقریبات نے فن کے طرح طرح کے مظاہروں کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ محبت کے اس سرچشمہ کا عالی شان ثبوت تھا جس میں یہ سب نمودار ہوئے۔ اس موقعہ کے لئے جامعہ بہائی کے طریق کار کی تمام و کمال خصوصیت یہ تھی کہ اب تک پچھلے دو عشروں سے زیادہ عرصے کے دوران کیا کچھ سیکھ لیا گیا ہے۔ جب سے موجودہ منصوبوں کا یہ سلسلہ شروع ہوا ہے افراد مومنین نے پہل کی، جامعہ اجتماعی کوششوں کے لئے برپا ہوا اور احباب نے اداروں کے تیار کردہ منصوبوں میں اپنی توانائیوں کو راہ پر لگایا۔ ایک نمایاں سالگرہ جو دو صدیوں کے گزرنے کی علامت تھی اور آنیو الی صدی کے دوران جامعات کی تشکیل کے لئے طاقت سے بھرپور جذبہ فراہم کرتی تھی۔ دوسرے دو صد سالہ جشن میلاد تک کے عرصہ کے دوران پہلے جشن کے وقت جو بیج محبت سے بوئے گئے ہیں ان میں سے ایک ایک کو صبر کے ساتھ پھل لانے کا موقع دینا چاہیے۔

3۔ جاری منصوبوں کے دو سالوں کے اندر اگرچہ قدرتی طور پر ہر ایک ملک کے اندر ترقی یکساں نہیں رہی تاہم جاری عالمی جدو جہد ہدف کے زوردار ترقی والے پانچ ہزار کلسٹرز میں سے آدھے تکمیل کے قریب ہیں اور جس رفتار سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے وہ مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ زیادہ غور سے دیکھیں تو ہمیں افراد، جامعات اور اداروں کے قویٰ اور صلاحیتوں کے اظہار کی اُمید افزا علامات نظر آئیں گی۔ مومنین کو ہر جگہ جشن دو صد سالہ میلاد کی تقریبات نے دکھا دیا ہے کہ ان کے ارد گرد موجود لوگوں کے ساتھ باہمی امور نپٹانے میں تعلیمات کی روح کو سمویا جا سکتا ہے اور جیسے جیسے ہزاروں دیہاتوںاور شہری محلوں میں کام کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے تو ان میں سے ہر ایک کے اندر متحرک جامعاتی زندگی جڑ پکڑنے لگی ہے۔ ان کلسٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے جہاں فعالیت کے اس نمونہ کے نظام کو زیادہ سے زیادہ مقامات تک پھیلایا جانا مستحکم ہو رہا ہے اور اس طرح احباب اس قابل ہو رہے ہیں اس ترقی کو جاری رکھتے ہوئے تیسرے سنگِ میل کو بھی عبور کر لیں اورا سی جگہ عالم بہائی کی سیکھنے کی سرحدوں پر بالخصوص جہاں انسانی آبادیاں حضرت بہاء اللہ کی بصیرت کی طرف حرکت کرکے بڑھ رہی ہیں وہاں نہ صرف بہائی فعالیتوں کی وسیع ہوتی گود میں بڑی تعداد میں لوگ آتے جا رہے ہیں بلکہ احباب یہ بھی سیکھ رہے ہیں کہ کس طرح بڑے بڑے گروہ جامعہ اسم اعظم کے ساتھ اپنی شناخت استوار کرتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امر کی تعلیمی کوششیں ان مقامات میں زیادہ سے زیادہ رسمی اور صحیح کردار اختیار کرتی جا رہی ہیں جہاں بچے بغیر کسی وقفہ کے سال بہ سال درجات عبور کرتے ہیں اور جونیئر یوتھ روحانی تقویت کے ایک درجہ سے اگلے درجہ تک قابل اعتماد انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔ ان مقامات پر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ یہ یقینی بنانا سیکھ رہے ہیں کہ کافی تعداد میں انسانی وسائل تیار ہوتے رہیں تاکہ وہ بڑھتی ہوئی تعداد میں بچوں اور جوانوں کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کا اہتمام کر سکیں۔ ان بنیادی فعالیتوں میں شرکت پوری آبادی کی ثقافت میں اس انداز میں سما گئی ہے کہ اس کو جامعہ کی زندگی کا ناگزیر پہلو خیال کیا جاتا ہے۔ ایسی آبادیوں میں ایک نئی قوت نمودار ہوتی ہے جہاں وہ اپنی ترقی کی ذمہ داری خود سنبھال لیتے ہیں اور وہ ان معاشرت قوتوں کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں جو معاشرے کے اندر جمود پیدا کرتی ہیں۔

4۔ محبوب دوستو، یہ حقیقتاً وہ لمحہ ہے جب محبوب حقیقی کا شکر ادا کیا جائے۔ حوصلہ مندی کے لئے ہمارے پاس بہت بڑی وجوہات ہیں۔ تاہم ہمیں کام کے اس پیمانے سے کچھ زیادہ ہی آگاہی ہے جو ابھی کرنا باقی پڑا ہے۔ بنیادی طور پر جیسے کہ ہم پہلے ہی اس کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ کئی سو کلسٹرز کے اندر بڑھتی ہوئی تعداد میں ایسے مومنین کے گروہ نمودار ہونا چاہییں جو اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے ساتھ توجہ اس طرح مرکوز کر سکیں جس سے بڑھوتری اور تعمیر کی صلاحیت کی پرورش ہوتی رہے اور جو اپنی فعالیتوں پر غور و فکر کرنے اور ان میں نظم و ضبط پیدا کرنے اور تجربہ سے سیکھنے کی صلاحیت سے ممتاز ہوں۔ ہر مقام پر ایسے افراد کا بڑھتا ہوا گروہ پیدا کرنا اور ان کا ساتھ دینا نہ صرف کلسٹر کی سطح پر بلکہ دیہاتوں اور محلوں میں بھی ایسا چیلنج ہے جو انتہائی مشکل ہے لیکن انتہائی ضروری بھی۔ لیکن جہاں ایسا ہو رہا ہے وہاں اس کے نتائج خود ہی گواہی دیتے ہیں۔

5۔ ہمیں یہ دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ امر کے ادارے اس انتہائی ضرورت کو اپنے غور و فکر میں سب سے آگے رکھتے ہیں اور اس کے لئے مؤثر طریق کار وضع کرتے ہیں تاکہ ترقی سے پیدا ہونے والی بصیرتوں کو وسیع حدوں تک استعمال میں لایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہوا تجربہ قومی، علاقائی اور محلّی اداروں کو وسیع بصیرت اور تناظر فراہم کر رہا ہے۔ وہ جامعہ کی ترقی کے تمام پہلوؤں میں شریک ہو رہے ہیں اور اپنے رسمی اعضاء سے بھی آگے بڑھ کر سب لوگوں کی فلاح کے لئے فکر مند ہو رہے ہیں۔ لوگوں کی ترقی کے لئے انسٹیٹیوٹ پراسیس میں جو گہرے مطالب موجود ہیں ان کا احساس رکھتے ہوئے وہ اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں کہ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کو کس طرح تقویت دی جا سکتی ہے۔ انہیںاس ضرورت کا احساس رہتا ہے کہ جامعہ کی توجہ کو منصوبہ کے تقاضوں پر مرکوز رکھا جائے اور وہ احباب کے وسیع ہوتے حلقہ کو اتحاد کی بلند سے بلند سطح تک بڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ نہایت وفاداری کے ساتھ اپنے انتظامی اور مالی نظاموں کو پہلے سے بہتر بنانے کی ذمہ داری کی تائید کرتے ہیں تاکہ توسیع اور تحکیم کے کام کی مناسب طریقے سے مدد کی جا سکے۔ ان سب امور میں وہ انجام کار اس کام میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ وہ جامعہ کے اندر ایسے حالات پیدا کریں جن سے مضبوط روحانی طاقتیں ظاہر ہونے میں مدد ملے۔

6۔ جیسے جیسے جامعہ کی تعمیر میں زور پیدا ہو رہا ہے تو احباب اس میں نئی صلاحتیں استعمال میں لا رہے ہیں جو انہوں نے اپنے گرد موجود سماج کے حالات میں بہتری پیدا کرنے کے لئے حاصل کی ہیں۔ ملکوتی تعلیمات کے مطالعہ سے ان کا جوش و جذبہ روشن ہوتا ہے۔ قلیل مدتی منصوبوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ رسمی پروگراموں کی رسائی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب تعلیم، صحت، زراعت اور دوسرے شعبوں میں ترقی کے لئے بہائی جذبہ و القا رکھنے والی تنظیمیں آ رہی ہیں اور لوگوں کی افرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اس سے پیدا ہونے والی کایا پلٹ نظر آتی ہے اور یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر حضرت بہاء اللہ کی سماج کی تعمیری قوتوں کے خطا سے پاک تحرکات سے پیدا ہوئی ہے۔ اس طرح اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ یہ اُس سماجی عمل کی ایسی مثالوں سے ہی پیدا ہوئی ہے خواہ وہ سادہ ہوں یا پیچیدہ، محدود مدت کے لئے ہوں یا طویل مدتی جو بہائی انٹرنیشنل کمیونٹی کے دفاتر اپنی سماجی مباحثوں میں شرکت کی مساعی میں القا حاصل کرتے ہیں۔ یہ امر بہائی کے لئے جدو جہد کا ایک اور اہم میدان ہے جس میں بہت پیش رفت ہوئی ہے۔ ملّی سطح پر ان مباحثوں میں شرکت جو اس سماج کے لئے بامعنی ہوں، جیسے مساوات مرد و زن، مہاجرت اور استحکام، معاشرتی اصلاح میں نوجوانوں کا کردار اور دوسرے مباحث جیسے مختلف مذاہب کا مل جل کر زندہ رہنا، بڑھتے ہوئے اطمینان، اہلیت اور بصیرت کے ساتھ کی جارہی ہے۔ تمام عمروں اور ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے مومنین جہاں بھی رہتے، کام کرتے یا تعلیم حا صل کرتے ہوں مخصوص مباحثوں میں بڑا قیمتی حصہ لے رہے ہیں اور ان لوگوں کی توجہ میں ایسا اصولی تناظر لا رہے ہیں جو حضرت بہاء اللہ کے وسیع کلام وحی سے متشکل ہوا ہے۔

7۔ امر بہائی کی ان مختلف مقامات پر جہاں پر مباحث جاری ہیں موجودگی کو ورلڈ وائڈ ویب پر اداری پیش کش سے بہت وسیع رسائی حاصل ہوئی ہے۔ اس موجودگی میں ملّی جامعات کے ویب سائٹ کے اجراء سے بہت ہی زیادہ وسیع رسائی پیدا ہو گئی ہے اور Bahai.org سے جڑی ویب سائٹس سے رسائی بہت زیادہ وسیع ہو گئی ہے۔ اس کی امر اللہ کی تبلیغ اور صیانت میں بہت قدرو قیمت ہے۔ صرف چند ایام کے اندر ہی بہت بڑا عالم گیر رابطہ امر اللہ کے بارے میں احتیاط کے ساتھ تیار کردہ اس مواد کے ساتھ منسلک ہوگیاہے جو جشن دو صد سالہ میلاد کی ویب سائیٹ پر پیش کیا گیا تھا اور اسے ایک ساتھ نو (9) مختلف زبانوں میں منتقل کیا گیا اور اس میں ہر ملک نے اپنے خصوصیPages (صفحات) کا اضافہ کیا ہے جس میں اپنے اپنے ملک میں ہونے والی تقریبات کی رپورٹ تھی۔ اس منصوبے پر کام کافی آگے بڑھ گیا ہے کہ بہائی ریفرنس لائبریری سائیٹ پر ایک ایسے فیچر کا اضافہ کیا جائے جس کی مدد سے مقدس تحریروں میں سے ایسے اقتباسات اور ایسی الواح بھی شامل کی جا سکیں جن کا ترجمہ پہلے نہیں ہوا تھا اور اب وقت کے ساتھ ساتھ ان کو آن لائن دیکھنے کے لئے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آنے والے سالوں میں حضرت بہاء اللہ اور حضرت عبد البہاء کی تحریروں کے انگریزی تراجم بھی دکھائے جانے کے لئے ان میں شامل کئے جاتے ر ہیں۔

8۔ سانتیاگو، چلی اور باٹم بینگ، کمبوڈیا میں دنیا کے وہ مشارق الاذکار جن کا بالکل حال ہی میں افتتاح کیا گیا لوگوں کی کشش کے ثابت شدہ مراکز اور اپنے سماجوں کے ایسے روشن مینار بن گئے ہیں جن کا امر اللہ پرچار کرتا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہونے والا ہے۔ ہمیں یہ اعلان کرکے خوشی حاصل ہو رہی ہے کہ نورٹے ڈیل کاؤکا، کولمبیا کے مشرق الاذکار کی افتتاحی تقریب جولائی میں منعقد ہونے والی ہے۔ مزید یہ کہ کئی اور مشارق الاذکار کی تعمیر سامنے افق پر نمودار ہو رہی ہے۔ وانو آٹو میں تعمیر کرنے کی اجازت حاصل کی جا رہی ہے۔ ہندوستان اور ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو میں انتہائی پیچیدہ اور مشقت طلب عمل کے بعد کامیابی سے زمین حاصل کر لی گئی ہے۔ پاپوا نیوگنی میں پہلے ملّی مشرق الاذکار کے ڈیزائن کی نمائش بھی کر دی گئی۔ اس دوران ہمیں یہ پوری توقع ہے کہ مشرق الاذکار کے بارے میں حال ہی میں جاری کئے گئے بیان اور اقتباسات پر مشتمل کمپائیلیشن جسے ہمارے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ نے تیار کیا ہے جامعہ کی زندگی میں عبادت کی اہمیت کو سمجھنے میں ہمارے احباب میں مزیدتحریک پیدا کرے گی کیونکہ اپنے کے خدمت کے اقدامات میں، بالخصوص اپنے دعا و مناجات کے باقاعدگی سے جاری جلسات میں بہائی ہر کہیں مستقبل کے مشارق الاذکار کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔

9۔ اس وقت سے چوتھائی صدی گزرنے میں صرف تین سال باقی رہ گئے ہیں جب1996ء میں ایسی کوششیں شروع کی گئیں جس کا صرف ایک ہی ہدف تھا کہ فوج در فوج داخلے کے عمل میں نمایاں پیش رفت لائی جائے۔ رضوان2021ء میں حضرت بہاء اللہ کے پیروکار ایسا منصوبہ شروع کریں گے جو صرف ایک سال پر محیط ہوگا۔یہ مختصر لیکن نیک فال اور ثمردار ہوگا۔ یہ ایک سالہ کوشش منصوبوں کی ایک نئی لہر شروع کرے گی جو امر اللہ کی کشتی کو بہائی دور کی تیسری صدی میں داخل کرے گی۔ ان مبارک بارہ مہینوں کے عرصہ میں عالم بہائی حضرت عبد البہاء کے صعود کی صد سالہ برسی منائے گا۔ اس میں ایک خصوصی اجتماع عالمی بہائی مرکز میں منعقد کیا جائے گا جس میں ہر محفل روحانی ملّی اور ہر ریجنل بہائی کونسل کے نمائندوں کو دعوت دی جائے گی۔ تاہم یہ واقعات کے ایک سلسلہ کی پہلی تقریب ہو گی جو آنے والے عشروں کے تقاضوں کے لئے مومنین کو تیار کرے گی۔ سرکار آقا کے عہد و میثاق کی پہلی عمومی تلاوت کے بعد ایک سو سال گزر جانے پر آنے والی جنوری ارض اقدس میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے انعقاد کا موقع ہو گا جس میں سب مشاورین اور صیانت و تبلیغ کے تمام اعضائے ہیئت معاونت جمع ہوں گے۔ ان دو تاریخی اجتماعات سے پیدا ہونے والی روحانی قوت کو تمام احبائے الٰہی تک ہر اُس سرزمین میں لے جایا جائے گا جہاں وہ رہائش پذیر ہوں گے۔ اس مقصد کے لئے ایک سالہ منصوبہ کے بعد آنے والے مہینوں کے اندر پوری دنیا میں کانفرنسوں کے سلسلوں کا انعقاد ہوگا۔ یہ کئی سالوں پر محیط اثر کو تیز کرنے والی جد وجہد ہوگی جو یک سالہ منصوبہ کے بعد شروع ہو گی۔

10۔ اس طرح سرکار آقا کے ملکوتی منصوبہ کے ایک اور مرحلہ کے کھل کر سامنے آنے کا موقع آرہا ہے۔ لیکن ایک لہر دوڑا دینے والا اور بہت جلد آنے والا مرحلہ براہ راست سامنے موجود ہے۔ حضرت باب کا دو صد سالہ جشن میلاد ڈیڑھ سال دور ہے۔ یہ ایک ایسا عرصہ ہے جس میں ہمارے امر کے شہید مبشر کی خلاف معمول بہادری و دلیری کو یاد کیا جائے گا جس کے ڈرامائی دور بعثت نے نوع انسانی کو تاریخ کے ایک نئے عصر میں داخل کر دیا۔ اگرچہ وہ ہمارے زمانے سے دو سو سال دور ہے لیکن جس معاشرے میں حضرت باب کا ظہور ہوا وہ آج کی دنیا سے اس لحاظ سے مشابہت رکھتا ہے کہ اس میں بھی ظلم کا احساس موجود ہے اور کتنے لوگ یہ چاہت رکھتے ہیں کہ انہیں ایسے جواب مل سکیں جو اُن کی روحوں کی جاننے کی پیاس کو بجھا سکیں۔ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ اس دو صد سالہ تقریب کو کس طرح شایان شان طریقے سے یادگار بنایا جائے تو ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جشن کی ان تقاریب کا اپنا ایک خصوصی کردار ہوگا۔ اس طرح ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس جشن میں بھی بہت زیادہ فعالیتیں ہوں گی جو اس دو صد سالہ جشن میلاد سے جو ابھی گزرا ہے شان میں کسی طرح کم نہیں ہو نگی اور منائے جانے والے واقعات بھی کچھ کم نہ ہوں گے ۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جس کی طرف ہر جامعہ، ہر گھرانہ، ہر دل بلاشبہ پرشوق توقعات سے دیکھے گا۔

11۔ آگے آنے والے مہینے ایک ایسا وقت بھی ہوں گے جس میں حضرت باب کے ثابت قدم پیروکاروں کی یاد ذہن میں تازہ کی جائے گی۔ وہ بہادر اور دلیر مرد اور خواتین جن کے ایمان کا اظہار بے مثال قربانی کے کاموں سے ہوا جو امر اللہ کی تاریخ کے صفحات کو ہمیشہ کے لئے سجائیں گے۔ بے خوفی، قربانی اور انقطاع ماسوا اللہ کی خو بیاں ہر اُس شخص پر اپنا اثر مرتب کرتی ہیں جو ان کے جرآتمندانہ اقدامات سے آگاہی پاتا ہے۔ وہ کم عمری بھی کتنی نمایاں ہے جس میں کتنے شیر دل نفوس نے تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش ثبت کئے۔ خدا کرے آنے والے عرصہ کے دوران ان کی مثال وفاداروں کی پوری جماعت کو حوصلہ دے۔ جوانوں کو بھی حو صلہ کی کچھ کم ضرورت نہیں جنہیں ایک دفعہ ایک ایسی تحریک کی رہنمائی کے لئے پکارا جا رہا ہے جو پوری دنیا کی کایاپلٹ کرنے سے کسی طرح کم نہیں۔

12۔ اس طرح یہ ہماری روشن و درخشاں اُمید ہے۔ ان چھ دورانیوں کے درمیان جو اس رضوان اور آنے والے جشن دو صد سالہ میلاد کے درمیان موجود ہیں، بلکہ جاری منصوبہ کے بقایا پورے تین سال کے دوران خدا کرے وہ سب کچھ قربان کر دینے والی سب سے برتر محبت جس نے حضرت باب کے شاگردوں میں تحریک پیداکی کہ وہ ملکوتی روشنی کو پھیلائیں آپ کو بھی عظیم کارنامے سر انجام دینے پر ابھارے۔ ساحت اقدس پر ہماری التجا ہے کہ آپ نصرت ملکوتی پانے والے بنیں۔

بیت العدل اعظم الٰہی

دو اُبھرتی حقیقتوں نے ہمیں آپ سے ان کلمات میں مخاطب ہونے پر مجبور کیاہے۔ پہلی حقیقت دنیا بھر میں وہ بڑھتا ہوا شعور ہے جو کرونا وائرس کی عالمی وباء کے سرابی اور خوفناک خطروں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ بہت سے ممالک میںخطرے سے نبٹنے کے لئے کی جانے والی بہادرانہ اور پرُعزم اجتماعی کوششوں کے باوجودصورتحال نہایت گھمبیر ہے، جس کے نتیجے میں خاندان اور افراد آفت زدہ ہیں اور پورے کے پورے سماج بحران میں دھکیل دئیے گئے ہیں۔ مصائب وغم کی لہریں یکے بعد دیگر مقام پرقیامت ڈھا رہی ہیں اور جو مختلف اقوام کو مختلف اوقات میں مختلف انداز میں کمزور کر دیں گی۔

دوسری حقیقت ، جو روز بروز زیادہ عیاں ہوتی جارہی ہے، ایسی للکار کے نتیجے میں عالمِ بہائی کی لچک اوربے تخفیف قوتِ حیات ہے جس کی نظیر زندہ تاریخ نے نہیں دیکھی۔ آپ کا جواب شاندار رہا ہے۔ جب ہم نے ایک ماہ قبل نوروز پر آپ سے خطاب کیا تھا، ہم اُن متاثر کن صفات جو وہ سماج ظاہر کررہے ہیں جن کی معمول کی سرگرمی درہم برہم ہوگئی تھی، پر زور دینےکے شائق تھے۔ جو کچھ اِن دورانی ہفتوں میں قرار پایا ہے، جس کے دوران کئی دوستوں کو بڑھتی ہوئی کڑی رکاوٹوں کی تعمیل کرنا پڑی ہے، اس نے ہماری مدح کے احساسات کو اور گہرا کر دیا ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں سے سیکھتے ہوئے چند سماجوں نے آبادیوں میں صحتِ عامہ کی ضروریات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کےمحفوظ اور تخلیقی انداز تلاش کر لئے ہیں ۔جن کو وائرس سے زیادہ خطرہ ہےان کی جانب اور اسکے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے اقتصادی مشکلات کی جانب خاص توجہ دی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں بہائی ورلڈ نیوز سروس پر شائع ہونے والے اقدامات اُن لاتعداد جاری کوششوںمیں سے صرف مُٹھی بھر ہیں۔ اِن کے ہمراہ وہ کوششیں ہیں جو روحانی صفات کو جانچنے، فروغ دینے اور نشوونما کرنے کے لئے کی جارہی ہیں کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسی کئی کاوشیں لازماً خاندانی اکائیوں یا تنہائی میں کی جارہی ہیں، لیکن جہاں حالات اور آلاتِ مواصلات اجازت دیتے ہیں یکساں صورتحال رکھنے والے نفوس کے درمیان ایک غیر معمولی احساسِ یکجہتی کی فعال طور پرپرورش کی جارہی ہے۔ سماجی زندگی کے حرکیات، جو اجتماعی پیشرفت کے لئے بے حد اہم ہے، مَدہم نہیں پڑ یں گی۔

یہ دیکھ کر ہماری ہمت بلند ہوئی ہے کہ محافلِ روحانیہ ملّیہ، جو افواج النور کے انتھک سپاہ سالار ہیں، نے کس قدر قابلیت کے ساتھ اپنے جوامع کی رہنمائی کی اور بحران کےنتیجے میں اُن کے ردِعمل کی صورتگری کی ہے۔ مشاورین اور ان کے معاونین نے اُن کی بھرپورحمایت کی ہے، جنہوں نےہمیشہ کی طرح جوانمردی کے ساتھ پُرمحبت خدمت کا عَلم بلند کیا ہے۔ اپنے ممالک کے اکثر تیزی سے بدلتے حالات سے خوب باخبر رہتے ہوئےمحافل نے امراللہ کے امور کو منظم کرنے کے لئے، اور خاص کر انتخابات کے انعقاد کے لئے ،ہر ممکن ضروری انتظامات کئے ہیں۔ باقاعدہ روابط کے ذریعے اداروں اور ایجنسیوں نے دانشمندانہ مشورے، تسلی بخش یقین دہانی اور مسلسل تشویق پیش کی ہے۔ کئی مواقع پر انہوں نے تعمیراتی موضوعات کی شناخت کرنے کا آغاز کیا ہے جو ان کے سماجوں میں ابھرنے والے مکالمات میں سامنے آئے ہیں۔جس توقع کا اظہارہم نے اپنے نوروزکے پیام میں کیا تھا کہ انسانیت کے صبر و برادشت کی یہ آزمائش اسےبرتر بصیرت عطا کرے گی ابھی سے حقیقت بن رہی ہے۔ قائدین، نمایاں مفکّرین اور مبصرین نے بنیادی تصورات اور بے خوف آرزئوں کی کھوج لگانے کا آغاز کیا ہے جو حالیہ وقتوں میں عوامی مکالمات میں بڑی حد تک موجود نہ تھے۔اس وقت یہ صرف وہ ابتدائی کرنیں ہیں لیکن ان میں یہ امکان موجود ہے کہ اجتماعی شعور کا لمحہ نزدیک ہے۔

عالمِ بہائی کی لچک کو عمل میں ظاہر ہوتا دیکھ کر ہمیں جو راحت ملتی ہے، وہ انسانیت پر اس عالمی وباء کے نتائج کے غم سے مدہم پڑ جاتی ہے۔ افسوس، ہم واقف ہیںکہ مومنین اور ان کے ساتھی بھی ان تکالیف میں سانجھے ہیں۔ دوستوں اور رشتہ داروں سے فاصلہ، جوصحتِ عامہ کی ضروریات کے تحت دنیا بھر کے بے شمار لوگ اس وقت برقرار رکھے ہوئےہیں، کچھ کے لئے مستقل جدائی کا باعث بن جائے گی ۔ ہر طلوعِ سحر پر یہ یقینی لگتا ہے کہ سورج غروب ہونے سے قبل مزید اذیتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ خدا کرے کہ عالمِ ملکوت میں ملاپ کا وعدہ اُن کو سکون دے سکے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اُن کے قلوب کو راحت نصیب ہو ، اور خدا کی رحمت اُن کو گھیرے رہے جن کی تعلیم ، ذریعہِ معاش، گھر اور زندہ رہنے کے ذرائع تک خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ آپ کے لئے اور آپ کے عزیز وںاور آپ کے تمام ہم وطنوںکے لئے، ہم حضرت بہاءاللہ سےدعاکرتے ہیں اور آپ سے رحم و کرم کی التجا کرتے ہیں۔

چاہے طے کرنے والا فاصلہ کتنا ہی طویل اور کٹھن کیوں نہ ہو، ہم اس سفر کو طے کرنے میںآپ کے صبر اور استقامت میں نہایت پُراعتماد ہیں۔ دوسروں کی ضرورتوں کو خود پر ترجیح دیتے ہوئے، محروموں کو روحانی نشوونماکے ذریعے طاقت بخشتے ہوئے، جوابات کے لئے بڑھتے ہوئے پیاسوں کو مطمئن کرتے ہوئے اور وہ جو دنیا کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں انہیں ذرائع پیش کرتے ہوئے آپ امید، ایمان اور اعلیٰ ظرفی کے خزانوں سےاستفادہ کرتےہیں ۔ جمالِ مبارک کے عقیدت مند پیروکاروں سےاس سے کم ترکی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

امر کی تاریخ کے یادگار باب کے اختتامی کلمات اب تحریر ہو گئے ہیں اور صفحہ پلٹ گیا ہے۔ یہ رضوان ایک پانچ سالہ منصوبہ کے غیر معمولی سال اور منصوبوں کے اس سلسلہ کا جو ۱۹۹۶ء میں شروع ہوا ،کے اختتام کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ منصوبوں کا ایک نیا سلسلہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بارہ ماہ کااہم عرصہ کن وعدوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اس نو سالہ جدو جہد کا آغاز ہوں گے جو اگلے رضوان سے شروع ہوگا۔ ہمیں اپنے سامنے ایک ایسا جامعہ نظر آتا ہے جس نے بڑی سرعت سے قوت حاصل کی ہے اور تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھنے کےلئے تیار ہے۔ لیکن اس بارے میں کوئی مغالطہ نہیں رہنا چاہیےکہ اس نقطہ تک پہنچنے کے لئے کتنی جدو جہد کی ضرورت تھی اور وہ بصیرتیں کتنی مشکلات سے حاصل کی جا سکیں جو اس راہ کو طے کرنے کے دوران سیکھی گئیں:جو سبق سیکھے گئے وہ جامعہ کے مستقبل کی صورت گری کریں گے اور یہ بیان کہ ان کو کیسے سکھایاگیا اس پر روشنی ڈالے گا جو آگے آنے والا ہے۔

۱۹۹۶ء تک آنے والے عشرے خود اپنی ترقیات اور بصیرتوں سے مالا مال ہیں اور اُنہوں نے کوئی شک و شبہ باقی نہیں چھوڑا کہ متعدد معاشروں کی بڑی تعداد میں لوگ تیار ملیں گے جو امر مقدس کے عَلم کے نیچے داخل ہونے کے لئے تیار ہونگے۔ تاہم جس طرح بڑی تعداد میں لوگوں کی شمولیت کے واقعات حوصلہ افزا تھے وہ ترقی کو برقرار رہنے والے اپنے عمل کو ،جو متنوع صورت ہائے حالات میں پیدا کئے جا سکتے تھے ، کی برابری نہ کرسکے۔ جامعہ کو گہرے سوالات درپیش تھے جن کا اس کو، اس وقت صحیح جواب دینے کا کوئی تجربہ حاصل نہ تھا۔ کس طرح اس کی توسیع کا مقصد رکھنے والی کوششیں تحکیم کے عمل کے ساتھ ساتھ چل سکتی تھیں اور پائیدار توسیع کے طویل عرصےسے جاری اور بظاہر حل نہ ہو سکنے والی للکاروں کا جواب دے سکتی؟ کس طرح ایسے افراد، ادارے اور جامعات کھڑے کئے جا سکتے جو اس قابل ہو ں کہ حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات کو برسر عمل لاسکیں۔ اور کس طرح وہ لوگ جن کو تعلیمات میں کشش محسوس ہو وہ عالمی روحانی امور کے فعال کارکن بن سکیں؟

اور اس طرح چوتھائی صدی پہلے ایسا جامعہ بہائی جس کے ہر اول دستہ میں ابھی تین ایادی امراللہ کا ساتھ تھا، نے چار سالہ منصوبے کا آغاز کیاجو ان منصوبوں سے بالکل الگ اور مختلف تھا جو اس سے پہلے گزرے تھے اور اس کی توجہ صرف ایک مقصدپر مرکوز تھی کہ فوج در فوج داخلے میں نمایاں پیش رفت لائی جائے۔ یہی مقصد ان منصوبوں کے سلسلےکی بھی توصیف تھی جو ان کے بعد زیر عمل آتے رہے۔ جامعہ پہلے ہی یہ سمجھنے لگا تھا کہ یہ عمل صرف اسی قدر نہیں ہے کہ امر کے اندر بڑے بڑے گروہ داخل ہوتے رہیں اور نہ یہ عمل اچانک خود بخود ابھرے گا،اس میںبامقصد، منظم، تیز رفتار توسیع اور تحکیم مضمرہے۔ اس کام کے لئے بہت سارے باخبر نفوس کی شرکت درکار ہے اور ۱۹۹۶ء میں عالم بہائی کو پکارا گیا کہ وہ اس وسیع تر تعلیمی للکار کو ہاتھ میں لیں جس کی اس میں ضرورت ہوگی۔ جامعہ کو دعوت دی گئی کہ وہ ٹریننگ انسٹیٹیوٹس کا ایک نیٹ ورک شروع کریں جس کی توجہ بڑھتی ہوئی تعداد میں ایسے افراد تیار کرنے میں مرکوز ہو جن میں بڑھوتری کے عمل کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری صلاحیتیں موجود ہوں۔

تبلیغ کے شعبہ میں اپنے سابقہ فتوحات کے باوجود احباب نے اس آگاہی کے ساتھ یہ کام شروع کیاکہ واضح طور پر انہیں ان صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہےاور سب سے ضروری اسے کیسے حاصل کیا جائے۔ کئی طرح سے جامعہ یہ سب کرنے سے سیکھے گا ، انہیں وہ ایک بار خامیوں سے پاک کرکے مختلف حالات میں کافی عرصہ تک ان پر عمل کرکے ان میں عمدگی پیدا کرے گا اور جو سبق یہ سیکھے گاتو انہیں بالآخر تعلیمی مواد میں شامل کر لیا جائے گا۔ یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ چند سرگرمیاں آبادی کی روحانی ضروریات کا قدرتی جواب ہیں۔ اسٹڈی سرکلز، بچوں کی کلاسیں، دعائیہ جلسات اور بعد میں شروع ہونے والے جونیئر یوتھ گروپس اس بارے میں مرکزی اہمیت کے حامل سمجھے گئےاور جب انہیں متعلقہ سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا گیاتو جو تحرکات قائم ہوئے وہ سماجی زندگی کے متحرک نمونوں کو پیداکر سکے۔ اور جیسے جیسے ان بنیادی سرگرمیوں میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو بنیادی مقصد میں ایک نیا پہلو کا اضافہ ہوگیا۔ وہ ایسے دروازوں کا کام کرنے لگے جن میں سے نوجوان ،بالغ اور وسیع تر معاشرہ کے پورے خاندان گزر کر حضرت بہاء اللہ کے ظہورسے آگاہ اور مربوط ہوئے۔ یہ بھی واضح ہو رہا تھا کہ کس طرح سماج سازی کے کاموں کی حکمت عملی ‘‘ کلسٹر’’ کی سطح پر عملاً کارآمد تھی:یعنی ایک قابل نظم علاقہ جس کے نمایاں معاشرتی اور معاشی نقوش ہوتے ہیں۔ کلسٹر کی سطح کے سادہ منصوبے تیارکرنے کی صلاحیت پیدا ہونا شروع ہوئی اور ایسے منصوبوں سے امر کی بڑھوتری کے منصوبے ابھرنے لگے جو تین مہینوں کی فعالیتوں کے دورانیئے بن گئے۔ایک اہم نقطہ ابتداء سے ہی واضح ہوگیا کہ جیسے جیسے افراد کورسوں کے سلسلے سے گزرتے گئے اس نے کلسٹر کے تسلسل(continuum) میں حرکت کو تقویت دی اور اسے دوام بخشا۔ اس امدادی تعلق سے احباب کو ہر جگہ مدد ملی کہ وہ اپنے اردگرد کے علاقہ میںبڑھوتری کے تحرکات کا اندازہ کرسکیں اور اضافی قوت کی طرف راستہ متعین کر سکیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ دیکھنا فائدےمند نظر آیا کہ کلسٹر میں دونوں، تین تعلیمی لوازمات بچوں، جونیئر یوتھ ، جوان اور بالغوں کے سیاق و سباق میں کیا کچھ ہورہا ہےاور نیز فعالیتوں کے دورانیوں کی نظر سے بھی جو بڑھوتری کی تال کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ پچیس سالہ جد و جہد کے ایک عرصہ کے بعد بڑھوتری کے اس عمل کے انتہائی قابل تشخیس خدوخال جنہیں ہم آج دیکھتے ہیں وہ پوری طرح سے قائم ہو رہے تھے۔

جیسے جیسے احباب کی کوششوں میں شدت آتی گئی تو بڑھوتری کے عمل سے عالمگیر مناسبت کے حامل اصول، تصورات اور حکمت عملیاں بڑھوتری کے پراسس کے لئے ایک دائرہ عمل میں ظاہر ہونے لگیں جو اپنے اندر نئے عناصر کو جگہ دے سکتا تھا۔ یہ دائرہ عمل بے پناہ قوت کی فراہمی کے لئے بنیادی ثابت ہوا۔ اس نے احباب کو مدد دی ،جسے تجربے نے دکھایاکہ وہ اپنی قوتوں کو ایسے راستوں پر لگائیں جو صحت مند جامعات کی بڑھوتری کے لئے سازگار تھے ۔لیکن دائرہ عمل کوئی فارمولانہیں ہوتا۔ جب کسی کلسٹر، بستی یا محض ایک محلہ کی حقیقت کا اندازہ کرتے ہوئے ہم دائرہ عمل کے مختلف عناصر کا جائزہ لیتے ہیں توسرگرمی کا ایک نمونہ وضع کیا جا سکتا ہے جو اس سے استفادہ کرتا تھا جو باقی دنیا سیکھ رہی ہوتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے بھی وہ اس مقام کی خصوصیات کا جواب ہی ہوتا تھا۔ ایک طرف تقاضوں کی سختی اور دوسری طرف ذاتی ترجیحات کو بے حد آزادی دینے کے درمیان دوفرعتوں نے ان متنوع ذرائع کا نازک فہم مہیا کردیا جس کی مدد سے افراد ایک ایسے سلسلہ عمل کی مدد کرسکیں جو اپنے باطن میں ہم آہنگ ہے اور مسلسل تجربہ ہوتے جانے کے ساتھ ساتھ عمدگی حاصل کرتا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے جس کی نمائندگی اس دائرہ عمل کے نمودار ہونے سے ہوتی ہے: ہم آہنگی قائم کرنے کے مطالب اور پورے عالم بہائی کی جدو جہد کو متحد و مربوط کرنا اور اس کی آگے کی طرف پیش رفت کو مزید آگے کی طرف بڑھائے جانا عظیم نتائج کا حامل تھا۔

جب ایک کے بعد دوسرا منصوبہ آیا اور جامعہ کی تشکیل میں مصروفیت کی بنیادیں وسیع ہوتی گئیں، ثقافت کی سطح پر ترقیات زیادہ نمایاں ہو گئیں۔ مثال کے طور پر نوجوان نسل کو تعلیم دینے کو زیادہ وسیع پیمانے پر پذیرائی ملنے لگی جس طرح کہ بالخصوص اس غیرمعمولی قوت کو جس کی نمائندگی جونیئر یوتھ کرتے تھے۔ ایک مشترکہ راستہ پرنفوس ایک دوسرے کی ہمراہی اور مدد ، مسلسل باہمی حمایت کے دائرے کو وسیع کرنا، اس خدمت کے لئے صلاحیت کی ترقی کا نمونہ بن گئے جس کی طرف تمام کوششیں متوجہ تھیں۔جیسے جیسے روحانی استعداد کو جگانے اور بڑھانے کے لئے بامعنی گفتگووں کی طاقت کے بارے میں آگاہی بڑھتی گئی تو احباب اور ان کے دوستوں کے درمیان باہمی عمل میں تبدیلی آنے لگی۔ اور نمایاں طور پر جامعہ بہائی نے ایک بیرون نظری رویے کو اپنایا۔کوئی بھی روح جو امراللہ کے تصور کا مشتاق ہوتا ایک فعال شریک بن سکتا تھا ۔ یہاں تک کہ تعلیمی سرگرمیوں، دعائیہ جلسات اور سماج سازی کے دیگر عناصر کے کاموں کو بڑھانے والا اور سہولت کار بن سکتا تھا، اور انہی نفوس میں سے بہت سے حضرت بہااللہ پر ایمان لانے کا اعلان کرتے۔ اس طرح فوج در فوج داخلے کے پراسس کا تصور ظاہر ہونے لگا۔جو تصورات اور نظریات پر انحصار کرنے کے بجائے اس عملی تجربہ پر زیادہ انحصار کرتا تھا کہ کس طرح بڑی تعداد میں لوگ امر بہائی کوتلاش کرسکیں، اس سے آگاہ ہو سکیں، اس کے مقاصد کے ساتھ شناخت قائم کرسکیں، اس کی سرگرمیوںاور غورو فکر اور مشورت میں شامل ہو سکیں اور متعدد صورتوں میں اسے قبول کرلیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے جیسے ایک علاقے کے بعد دوسرے علاقے میں انسٹیٹیوٹ پراسس طاقت پاتا گیا تو ان افراد کی تعداد جو منصوبےکے امور میں حصہ لے رہے تھے اس میں بڑی کثرت سے اضافہ ہونے لگااور ان میں بھی جو حال ہی میں امراللہ سے متعارف ہوئے تھے۔ لیکن اس کو اس غرض سےتحرک نہیں دی جارہی تھی کہ تعداد میں اضافہ ہو۔ ایک ہی وقت میں روپزیر ہونے والا انفرادی اور اجتماعی کایاپلٹ کا تصور، جو کلام الٰہی کے مطالعے کی بنیاد پر اور ہر فرد کے گہرے روحانی عمل کے مرکزی کردار بننے کی صلاحیت کی تشخیص نے مشترکہ ہدف کے احساس کو قائم کیا۔

اس پچیس سالہ عرصہ کا ایک نمایاں اور القا پیدا کرنے والا پہلو وہ خدمت تھی جو بہائی جوانان سر انجام دے رہے تھے جنہوں نے ایمان اور دلیری کے ساتھ جامعہ کی جدو جہد کی پیش قدمی میں جائز مقام حاصل کر لیا ہے۔امر کے مبلغین اور نوجوانوں کے اساتذہ کی حیثیت سے، موبائل ٹیوٹرز اور مہاجرین کی شکل میں، کلسٹر کو آرڈینیٹر کے طور پر، اور ذیلی بہائی اداروں کے اعضاء کی صورت میں جوانان پانچوں براعظموں میں اپنے جامعات کی خدمت کے لئے عقیدت اور قربانی کے جذبہ سے اٹھے ہیں۔ وہ بلوغت جو اُنہوں نے وظائف کی ادائیگی میں دکھائی جس پر ملکوتی منصوبہ کی پیش رفت کا انحصار تھا وہ ان کی روحانی طاقت اور انسانیت کے مستقبل کے محفوظ بنانے کے لئے اپنے عزم و ارادہ کا اظہار تھا۔ روزافزوں انداز میں اس نمایاں ہونے والی بلوغت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے اس رضوان کے فوراً بعد جہاں مومن کی محفل میں خدمات سر انجام دینے کی عمراکیس سال ہی رہے گی وہ عمر جس میں ایک مومن بہائی انتخابات میں ووٹ ڈال سکتا ہے اسے کم کرکے اٹھارہ سال کر دیا ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ بہائی جوانان ہر جگہ جب اس عمرتک پہنچیں گے تو اپنی صلاحیت پر ہمارے اعتماد کا اظہار کریں گے اور وہ ‘‘مقدس وظیفے’’ کو ‘‘باضمیر انداز’’ اور پوری قابلیت سے ادا کریں گے جس کے لئے ہر منتخب کرنے والے بہائی سے تقاضا کیا جاتا ہے۔

٭٭٭٭

ہم اس بات سے واقف ہیںکہ قدرتی طور پر جامعات کی حقیقت میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ مختلف ملّی سماجوں اور ان سماجوں میں مختلف جگہوں نے منصوبوں کے سلسلے کو ترقی کے مختلف نقاط پر شروع کیا، اس وقت سے اُنہوں نے مختلف رفتاروں سے ترقی کی ہے اور ترقی کے مختلف درجات حاصل کئے ہیں۔ یہ بات بذات خود کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صورت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ مختلف مقامات پر مختلف حالات ہوتے ہیں اور اسی طرح ہر جگہ قبولیت کے درجات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن ہم ایک ابھرتی ہوئی لہر کو دیکھ سکتے ہیں جس کے مطابق اکثر جامعات کی صلاحیت، اعتماد اورحاصل شدہ تجربہ بڑھتا ہے، اسے قریب اور دور کے ساتھی جامعات کی کامیابی سے بلندی بھی ملتی ہے۔ ایک مثال کے طور پر کہ جب وہ نفوس جو ۱۹۹۶ء میں ایک نئی بستی کو کھولنے کے لئے اٹھے تو ان میں جرأت، ایمان اور عقیدت کی کوئی کمی نہ تھی لیکن آج ان کی جگہ کام کرنے والے ہر جگہ ان خوبیوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ان علوم، بصیرتوں اور صلاحیتوں سے بھی بہرہ ور ہیں جو پورے عالم بہائی کی پچیس سالہ جدو جہد سے جمع کی گئی ہیں کہ توسیع اور تحکیم کے امور کو کس طرح منظم اور عمدہ کیا جائے۔

کسی جامعہ کے ابتدائی نقطہ سے قطع نظراس نے بڑھوتری کے عمل کو اس وقت پیش رفت دی جب اس نے ایمان، استقلال اور عزم و ارادہ کو سیکھنے کے لئے تیار رہنے کے ساتھ منسلک کیا۔درحقیقت، ان منصوبوں کے سلسلے کی انمول میراث، اس بات کی پھیلتی ہوئی شناخت ہے کہ پیش رفت کی طرف کوئی بھی کوشش سیکھنے کے رویے کی طرف متوجہ ہو کر حاصل ہوگی اس نقطہ کی سادگی اس کی اہمیت کو نہ چھپا لے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کلسٹر وقت گزرنے کے ساتھ ترقی کے تسلسل میں پیشرفت کرے گا؛ وہ جامعات جنہوں نے بہت تیزی سے پیش رفت حاصل کی ہے، ان جامعات کے مقابلے میں جن کے حالات اور امکانات ان کے برابر تھے اُنہوں نے ایسی اہلیت دکھائی ہے جو خیالات میں وحدت پیدا کرے اور جو مؤثر عمل کے بارے میں سیکھے اور اُنہوں نے ایسا ،عمل میں کوئی جھجھک لائے بغیر کیا۔

سیکھنے کے عزم و ارادہ کا یہ مطلب بھی ہے کہ غلطیوں کے سرزد ہونے کے لئے بھی تیار رہا جائے۔ البتہ بعض اوقات یہ غلطیاں تکلیف کا سبب بنیںہیں۔ اس میں حیرت کی بات نہیں کہ نئے طریقے اور نئے انداز میں تجربے کی کمی کی وجہ سے غیر ماہرانہ انداز میں اختیار کئے گئے اور مواقع پر حاصل کردہ ایک قسم کی تازہ صلاحیت اس لئے فراموش کر دی گئی کہ جامعہ ایک اور طریقہ کار کی نشوونما میںمصروف تھا۔ نیک ارادے رکھنے میں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ غلط اقدامات نہیں سرزد ہوں گے اور ان کو درگزر کرنے کے لئے انکساری اور انقطاع کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ایک جامعہ یہ عزم کر لیتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے گا اور غلطیوں سے سیکھے گا جو قدرتی طور پر سرزد ہوں گی تو ترقی تک رسائی ہاتھ میں رہتی ہے۔

منصوبوں کے سلسلےکے وسط میں جامعہ کے معاشرہ کی زندگی میں شمولیت زیادہ براہ راست توجہ کا باعث بن گئی۔احباب کو اس بارے میں تشویق کی گئی کہ سماجی اقدامات اور معاشرے میں ہونے والے مکالمات کو دو مجموعی شعبوں کے طور پر دیکھا جائے۔ یقینا یہ دونوں توسیع اور تحکیم کے امور کے متبادل ہر گز نہ تھے، وہ تو انہی میں شامل اور مضمر تھے۔جتنے زیادہ انسانی وسائل کوئی جامعہ تیار کرسکتا، اتنی ہی زیادہ للکاروں کا سامنا کرنے کے لئے حضرت بہاءاللہ کے ظہور میں مضمر حکمت کو استعمال کرنے کی صلاحیت بڑھتی، یعنی ان کی تعلیمات کو حقیقت میں ڈھالنا۔ اس عرصہ میں نوع انسانی کی مشکلات کے شکار مسائل یہ ثابت کرتے تھے کہ ان کو طبیب ملکوتی کے عطا کردہ علاج کی کتنی اشد ضرورت ہے۔ اس پورے معاملہ کا ایک مطلب یہ تھا کہ مذہب کا ایسا تصور سامنے آئے جو ان تصورات سے بہت مختلف ہو جن کا اس وقت پوری دنیا میں غلبہ ہے۔ ایک ایسا تصور جو مذہب کو ایک ایسی مؤثر قوت تسلیم کرتا ہے جو ہمیشہ ترقی پاتی تہذیب و تمدن کو آگے دھکیل رہی ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ ایسا تمدن خود بخود اپنے آپ نمودار نہیں ہوگا۔ یہ حضرت بہاء اللہ کے پیروکاروں کا مشن ہے کہ وہ اس کو نمودار کرنے کے لئے جدو جہد کریں۔ ایسا مشن یہ تقاضا کرتا تھا کہ سکھلائی کے اسی سلسلہ عمل کو سماجی اقدامات کے امور پر اور عمومی مکالمات میں شرکت پر لاگو کیا جائے۔

پچھلے پچیس سالوں کے سیاق و سباق میں جائزہ لیا جائے تو سماجی اقدامات اٹھانے کی صلاحیت میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور اس نے سرگرمیوں کی غیر معمولی کثرت کی طرف رہنمائی کی ہے۔ ۱۹۹۶ء سے تقابل کیا جائے جب ۲۵۰ معاشرتی اور معاشی ترقی کے منصوبے سال بہ سال کے طریقے سے برقرار رکھے جا رہے تھے۔ اب ان کی تعداد ۱۵۰۰ ہو گئی ہے اور بہائیوں کی کاوشوں سے چلائی جانے والی تنظیموں کی تعدادچار گناہ بڑھ کر ۱۶۰ ہو گئی ہے۔مختصر دورانیہ کے ۰۰۰،۷۰ سے زیادہ نچلی سطح کے معاشرتی اقدامات ہر سال زیر عمل آرہے ہیں۔ یہ اضافہ پچاس گنا تک ہو گیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان تمام مساعی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا جو بہائی انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کی عقیدت مندانہ امداد اور جوش و جذبہ سے ہو رہا ہے۔ اس دوران معاشرےمیں جاری مکالمات میں بہائی شراکت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ان بے شمار مواقع کے علاوہ جہاں احباب نے ان گفتگووںمیں بہائی سیاق و سباق پیش کیں جو کسی کام کے دوران یا ذاتی حوالے سے سامنے آئیں ہیں، زیادہ رسمی شرکت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ہمارے سامنے نہ صرف بہائی انٹرنیشنل کمیونٹی کی وسیع ہوتی ہوئی کوشش اور بڑھتی ہو ئی عمدہ امداد، جس نے اس عرصہ میں افریقہ، ایشیا اور یورپ میں اپنے دفاتر قائم کئے، بلکہ وسیع اور مستحکم ہوتے ہوئے ملّی ایکسٹرنل افیرز کے دفتر کے کام ہیں جن کی بنیادی توجہ اس شعبہ کی طرف تھی، اس کے ساتھ مخصوص شعبوں میں افراد مومنین نے بھی قابل توجہ اور بصیرت آمیز اضافے کئے۔ اس سب کچھ سے اس کی کسی قدر وضاحت ہوتی ہے جو عزت و احترام، ستائش اور تعریف و توصیف فکر و تصور کے رہنما اور معاشرہ کی ہر سطح کی نمایاں شخصیات نے بار بار امر کے پیروکاروں کے اور ان کی سرگرمیوں کے لئے پیش کی ہیں۔

پچیس سال کے پورے عرصے کا جائزہ لیتے ہوئے ہم ان متعدد اقسام کی ترقی سے مرعوب ہو کر رہ جاتے ہیں جو عالم بہائی نے ایک ساتھ حاصل کی ہیں۔ اس جامعہ کی حیات دانش نے فروغ پایا ہے جس کا اظہار نہ صرف اس کی جدو جہد کے تمام شعبوں میں پیش رفت سے ہوتا ہے جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے بلکہ اس اعلیٰ درجے کے لٹریچر سے بھی ہوتا ہے جو بہائی مصنفین نے شائع کیا ہے۔ ایسے مقامات کے ترقی دینے سے بھی ہوتا ہے جو چند شعبوں میں تحقیق و تفتیش تعلیمات کی روشنی میں کرنے کے لئے استعمال میں آتے ہیں۔انسٹیٹیوٹ آف گلوبل پراسپیریٹی کے پیش کردہ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ جو امر کے اداروں کے تعاون سے پیش کئے جاتے ہیں جن سے ۱۰۰ سے کافی زیادہ ممالک کے بہائی جوانان استفادہ کرتے ہیں، کے مرتب کردہ اثر سے بھی عیاں ہوتا ہے۔ مشارق الاذکار کی تعمیر میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ سانتیاگو چلی میں آخری براعظمی مشرق الاذکار تعمیر ہو گیا ہے اور دوملّی اور پانچ مقامی مشارق الاذکار کی تعمیر کے منصوبے شروع ہو گئے ہیں۔ باتمبانگ کمبوڈیا اور نورٹا ڈیل کاکاو کولمبیا کے دروازے پہلے ہی کھل چکے ہیں۔ بہائی معابد خواہ نئے قائم ہوئے ہوں یا کافی مدت سے ہوں روزافزوں انداز میں جامعہ کی زندگی کے دلوں میں جگہ پاتے جا رہے ہیں۔ مومنین کی صفوں اور آبادیوں کی پیش کردہ مالی امداد جو احباء الٰہی کی شروع کردہ متنوع کوششوں کے لئے ہوتی ہے اس میں رکاوٹ نہیں آئی۔ دیکھا گیا ہے کہ اجتماعی روحانی قوت کے ایک اقدام کے طور پر وہ سخاوت اور قربانی جس کے ساتھ یہ پیش کی جاتی ہے بعض اوقات کافی بڑی معاشی ہلچل کے باوجود فنڈ کی نازک فراہمی برقرار رہی۔ نہیں، بلکہ اس میں تقویت پیدا ہوئی اور یہ بڑی نمایاں بات ہے۔ بہائی انتظامیہ کی فرمانروائی میں محافل ملّی کی اپنے جامعات کے امور کا نظم چلانے کی صلاحیت میں ان کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باوجود اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے بالخصوص مشاورین کے ساتھ تعاون اور ہمکاری میں نئی بلندیاں پیدا ہونے سے بہت فائدہ اٹھایا ہےجو پوری دنیا میں نچلے درجے کے اداروں سے حاصل ہونے والی بصیرتوں کے جمع کرنے اور ان کے منظم کرنے میں آلۂ کار ثابت ہوئے ہیں اور وہ یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ انہیں وسیع پیمانے پر تقسیم کیا جائے۔ یہ وہ زمانہ بھی تھا جس میں ریجنل بہائی کونسل ایک مکمل بااختیار امری ادارےکے طور پر نمودار ہوئی۔ اور اب تک ۲۳۰ علاقوں میں ان کونسلز اور ٹریننگ انسٹیٹیوٹس نے جو ان کے زیر نگرانی ہوتے ہیں ترقی کے سلسلۂ عمل میں خود کو ناگزیر ثابت کردیا ہے۔ حقوق اللہ کے چیف ٹرسٹی جناب علی محمد ورقا کے وظائف کو مستقبل میں جاری رکھنے کی خاطر حقوق اللہ کا انٹرنیشنل بورڈ آف ٹرسٹیز ۲۰۰۵ء میں تشکیل دیا گیا۔ آج یہ بورڈ کم از کم ۳۳ نیشنل اور ریجنل بورڈ آف ٹرسٹیز کی کوششوں میں تعاون اور ہمکاری کر رہا ہے جو اپنے مقام پر ایک ہزار سے زیادہ نمائندوں کے کام میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ وہ مختلف ترقیات جو اسی عرصہ میں بہائی مرکز جہانی میں ہوئیں بے شمار ہیں: حضرت باب کے روضہ مبارک سے منسلک چبوترے اور کوہ کرمل کے سلسلہ عمارات میں دو عمارتوں کا اضافہ اور حضرت عبد البہاء کے روضہ مبارک کی تعمیر کی ابتداء اور یہ تذکرہ کرنے کی حاجت نہیں کہ امر کے مقامات مقدسہ کی تقویت اور تحفظ کے لئے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد بھی ہوا۔ روضہ مبارک حضرت بہاء اللہ اور روضہ مبارک حضرت باب کو عالمی ورثہ کے مقامات کے طور پر تسلیم کیا گیا جو نوع بشر کے لئے انتہائی اہمیت کے مقامات ہیں۔ لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں گروہوں کی صورت میں آتے رہے، یہ تعداد کچھ سالوں میں پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی۔ اور مرکز جہانی نے ایک ہی وقت میں سینکڑوں زائرین کا خیرمقدم کیا۔ بعض سالوں میں ان کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی اور اسی تعداد کے برابر ان بہائیوں کا شمار بھی تھا جو مقدس مقامات کا دیدار کرنے آئے۔ ہم اس بات پر بہت ہی مسرور ہیں کہ تعدادتو بڑھ ہی رہی ہے لیکن ان ملتوں اور قوموں کی نمائندگی کی تعداد میں بھی درجنوں کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے جنہیں شرف زیارت حاصل ہوتا ہے۔ مقدس کتب و الواح کے تراجم، اشاعت اور تقسیم میں بھی بہت اضافہ ہو رہا ہے اور سرعت آ رہی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ بہائی ریفرنس لائبریری کی کتابوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ Bahai.orgسے منسلکہ ویب سائٹس کے بڑھتے گروہ میں ایک نمایاں عضو کا اضافہ ہوا ہے۔ جو دس زبانوں میں دستیاب ہے۔ متنوع دفاتر اور ذیلی ادارے قائم کئے ہیں جو کہ مرکز جہانی اور دوسرے مقامات پر ہیں اور ان کے ذمے ہے کہ وہ سیکھنے کےپراسس کی حمایت کریں جس کی تہہ کشائی پوری بہائی دنیا میںمختلف کوششوں سے ہو رہی ہے۔ہمارے روحانی بہنو اور بھائیو یہ سارا بیان، کہانی کا مختصر حصہ ہے جو ہم بیان کرسکے ہیں جو تمہاری اس ہستی سے عقیدت جو مظلوم جہان تھا سامنے لے آئی ہے۔ ہم صرف ان سخت مؤثر کلمات کی گونج بلند کر سکتے ہیں جو ایک مرتبہ ہمارے محبوب سرکار آقا نے جذبات کی شدت میں آکر بیان کئے تھے: ‘‘یا بہاءاللہ! تو نے یہ کیا کمال کر دکھایا ہے؟‘‘

٭٭٭٭

ایک چوتھائی صدی کے مرکزی منظر سے اب ہم اپنی توجہ کا مرکز حالیہ گزرنے والے پانچ سالہ منصوبے کی طرف کرتے ہیں۔ یہ ایسا منصوبہ تھا جو گزشتہ تمام منصوبوں سے کئی مختلف طریقوں سے الگ تھا۔ اس منصوبےمیں ہم نے دنیا کے بہائیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس سب سے جو اُنہوں نے گزشتہ بیس سالوں میں سیکھا ہے استفادہ کریں اور اس پر مکمل عمل در آمد کریں۔ ہم اس بات پر مسرور ہیں کہ اس بارے میں ہماری امیدیں پوری کرنے سے بھی کچھ زیادہ ہی کیا گیا لیکن جہاں ہم قدرتی طور پر جمال مبارک کے پیروکاروں سے عظیم چیزوں کی توقع کریں گے جو کچھ ان دلیرانہ قوتوں سے سر انجام دیا گیا اس کی خصوصیت حقیقتاً حیرت انگیز تھی۔ وہ کامیابیوں کاعروج تھاجو پچیس سالوں میں حاصل کی گئیں ۔ یہ منصوبہ اس لئے بھی یادگار تھا کہ اس کو دو مقدس دو صد سالہ تقریبات نے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ جن میں سے ہر ایک نے دنیا بھر میں محلّی جامعات کو درخشاں کر دیا۔ مومنین کے جامعہ نے ایسے پیمانے پر جو کبھی پہلے دیکھنے میں نہ آیا اور نسبتاً سہولت کے ساتھ معاشرہ کے تمام طبقات کے لوگوں کو مظہر ظہور الٰہی کی زندگی کو اعزازپیش کرنے میں شامل اورمصروف کیا۔ یہ کسی وسیع تر چیز کا طاقتور اشارہ تھا: یہ وہ صلاحیت تھی کہ کثیر روحانی قوتوں کے اظہار کو امر کی ترقی کی راہ پر لگا دیں۔ اس کا جواب اس قدر نمایاں تھا کہ متعدد مقامات پر امر مقدس کو قومی سطح پر لاعلمی سے باہر نکال لایا گیا۔ ایسے مقامات اور حالات میں جہاں اس کی توقع نہ تھی، شاید اس کی جستجو ہی نہ کی جاتی تھی امر کی مقبولیت نمایاں نظر آنے لگی۔ ہزاروں ہزار لوگ اس عقید ت مندانہ روح سے وجد میں آگئے جو اس زمانے میں ہر جگہ بہائی جامعات کی خصوصیت ہے۔ ایک بہائی یوم مقدس منانے سے کیا ممکن بنایا جا سکتا ہے اس کے تصور کو بے حد و حساب وسعت مل گئی۔

اس منصوبے کی کامیابیوں اور کامرانیوں نے سادہ طور پر تعداد کے لحاظ سے بھی بہت جلد ۱۹۹۶ء سے لے کر اس سے پہلے کے تمام منصوبوں کی کامیابیوں کو گرہن لگادی۔ اس منصوبے کی ابتداءمیںصلاحیت صرف اس قدر تھی کہ دیئے گئے وقت میں، ایک لاکھ سے کچھ زیادہ بنیادی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔ یہ صلاحیت بیس سالوں کی مشترکہ کوشش کا ثمر اور حاصل تھی۔ اب تین لاکھ بنیادی سرگرمیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ ان میں شرکت کرنے والوں کی تعداد دو ملین سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ اضافہ تین گنا کے قریب جا پہنچتا ہے۔ ۳۲۹ ملّی ا ور علاقائی ٹریننگ انسٹیٹیوٹس برسر عمل ہیں اور ان کی صلاحیت اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ ایک ملین لوگوں کی تین چوتھائی کو اس قابل بنا دیا گیا ہے کہ وہ سلسلۂ وار کتابوں کی ایک کتاب کو مکمل کر سکیں۔ مجموعی طور پر افراد کے کئے گئے کورسوں کی تعداد بھی اب دو ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ پانچ سالوں میں ایک تہائی سے کافی زیادہ ہے۔

اضافی شدت جس کے ساتھ پوری دنیا میں بڑھوتری کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں اپنی متاثر کرنے والی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس پانچ سالہ عرصے میں ہم نے یہ تقاضا کیا تھا کہ ان پانچ ہزار کلسٹروں میں جہاں بڑھوتری کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں ان کی رفتار میںتیزی لائی جائے۔ یہ عائد کردہ فریضہ پوری دنیا کے اندر سنجیدہ کوششوں کے لئے ایک زور دلانے والی چیز بن گیا۔ اس کے نتیجے میں زیادہ زور دار بڑھوتری کے پروگراموں کی تعداد دو گنا سے بھی بڑھ گئی اور اب تقریباً یہ چار ہزار ہے۔ صحت کے عالمی بحران کے دوران نئے دیہاتوں اور محلوں کو امر اللہ کے لئے کھولنے میں یا ان سرگرمیوں کے پھیلانے میں جو ابھی اپنی ابتدائی سطحوں پر تھیں جب اس وبا کی ابتداءہوئی تھی اس اجتماعی تعداد میں اضافہ کو بھی روک دیا کہ منصوبے کے اختتامی سالوں میں انہیں پورا کر دیا جائے۔ تاہم اس سے بھی کچھ زیادہ بتانے کو باقی ہے۔ اس نقشے کی ابتداءمیں ہم نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایسے کلسٹروں کی تعداد جہاں احباب ترقی کے تسلسل کے لئے تیسرے سنگِ میل کو اس سکھلائی کے نتیجے میں عبور کر چکے ہیں کہ بڑی تعداد کا کس طرح اپنی سرگرمیوںکے دائرے میں خیر مقدم کرنا ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں بڑھے گی۔ اس وقت تعداد ۲۰۰ کے اردگرد تھی اور کوئی چالیس ملکوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ پانچ سال گزرنے کےبعد اس کی تعداد حیران کن طورپر ایک ہزارتک کوئی ایک سو ممالک کے اندر بڑھ گئی۔ جو دنیا کے تمام بڑھوتری کے پروگراموں کی ایک چوتھائی ہیں اور ایک ایسی کامیابی ہیں جو ہماری توقعات سے بہت زیادہ ہیں۔ اور اس کے باوجود یہ اعدادوشمار پوری بلندیوں کو بیان نہیں کرتے جن تک بہائی جامعہ بہائی پہنچ چکا ہے۔ تیس سے زیادہ ایسے کلسٹر ہیں جہاں بنیادی سرگرمیاںجاری ہیں اور ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ بعض مقامات پر کل تعداد کئی ہزار ہے جہاں کئی ایک میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بیس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ محافل روحانی محلّی کی بڑھتی ہوئی تعداد ایسے تعلیمی پروگراموں کے کھولنے پر نگاہ لگائے ہوئے ہیں جو عملاً دیہات کے تمام بچوں اور جونیئر یوتھ کو عملاً اپنے اندر شامل کر لیں گے۔ یہی حقیقت کئی شہروں محلوں کے اندر نمودار ہو رہی ہے۔ حضرت بہاءاللہ کے امر میں مصروفیت کی کئی نمایاں مثالوں میں افراد،خاندانوں اور برادریوں سے بہت اُوپر نکل گئی ہے۔ اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ پوری پوری آبادیاں ایک مشترکہ مرکز کی طرف رواں دواں ہیں۔ بعض اوقات طویل عرصوں سے جاری دشمنیاں جو مخالف گروہوں کے درمیان چل رہی تھیں انہیں اب پیچھے پھینکا جا رہا ہے اور بعض معاشرتی ڈھانچوں اور محرکات کی ہیئت ملکوتی تعلیمات کی روشنی میں بہتر بنائی جا رہی ہیں۔

ہم اتنی متاثر کن ترقیات پر اپنی بہت زیادہ خوشی و مسرت کا اظہار کرنے سے نہیں رہ سکتے۔ امر حضرت بہاء اللہ کی معاشرےکی تعمیر کرنے کی قوت کا ہر روز پہلے سے زیادہ وضاحت کے ساتھ اظہار ہو رہا ہے اور یہ ایک مضبوط بنیاد ہے جس پر آئندہ آنے والا نو سالہ منصوبہ استوار ہو گا۔ نمایاں قوت والے کلسٹر جس طرح کہ اُمید تھی اپنے ہمسایوں کے لئے علم اور وسائل کے ذخیرے ثابت ہوئے ہیں۔ اور ایسے علاقے جہاں ایک سے زیادہ ایسےکلسٹر موجود ہیں اُنہوں نے بڑی آسانی سے ایسے ذرائع وضع کر لئے ہیں کہ وہ ایک کے بعد دوسرے کلسٹر میں ترقی میں تیزی پیدا کر سکیں۔ تاہم ہم دوبارہ اس پر زیادہ زور دینے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ترقی تقریباً عمومی ہے۔ ایک جگہ کے مقابلے میں دوسری جگہ کی ترقی کے صرف درجہ میں فرق ہوتا ہے۔ جامعہ کا فوج درد فوج داخلے کا مجموعی فہم اور اس کا اعتماد کہ وہ اس قابل ہے کہ وہ سلسلۂ عمل کو تحرک دینے کی ہر طرح کے حالات میں اہلیت رکھتا ہے ان درجات تک بلند ہو گئے ہیں جن کا گزشتہ عشروں میں تصور بھی نہ ہو سکتا تھا۔ گہرے سوالات جو کتنے عرصے سے دھندلے رہے تھے اور جن پر ۱۹۹۶ء میں پوری طرح توجہ مرکوز کی گئی تھی ان کا تسلی بخش جواب عالم بہائی نے دے دیا ہے۔ مومنین کی ایک نسل ہے جن کی پوری زندگیوں پر جامعہ کی ترقی کا نقش ثبت ہے۔ لیکن محض وہ پیمانہ جو ان متعدد کلسٹروں میں واقع ہوا ہے جہاں سکھلائی کی سرحدوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اُنہوں نے فوج در فوج داخلے کے عمل میں نمایاں ترقی پیدا کی ہے جو تاریخی تناسبوں کے درمیان عظیم ترین ہے۔

کئی لوگ اس سے آگاہ ہوں گے کہ کس طرح حضرت ولی امر نے امر کے زمانوں کو یکے بعد دیگرے آنے والے عہدوں میں تقسیم کیا۔ دورِ تکوین کا پانچواں عہد سال ۲۰۰۱ء میں شروع ہوا۔ یہ بات کم معروف ہے کہ حضرت ولی امر نے اس کاخصوصی حوالہ دیا کہ وہ ملکوتی منصوبہ کے عہد ہیں اور ان عہدوں کی مختلف سطحیں ہیں۔ اس ملکوتی منصوبے کو جس کا تصور حضرت عبد البہاء نے دیا تھا دو عشروں تک روک کر رکھا گیا جب نظم اداری کے محلّی اور ملّی ادارے قائم کئے جا رہے تھے اور ان کو تقویت دی جا رہی تھی اور اسے رسمی طور پر ۱۹۳۷ء میں جاری کیا گیا جب اس کے پہلے عصر کی پہلی سطح کی ابتداء کی گئی یعنی حضرت ولی امر اللہ نے اس وقت شمالی امریکہ کے جامعہ بہائی کو سات سالہ منصوبہ عطا کیا۔ پہلے عہد کا اختتام ۱۹۶۳ء میں دس سالہ جہاد روحانی کے خاتمے کے ساتھ ہوا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں امر کا عَلم گاڑا جا رہا تھا۔ عہد ثانی کی افتتاحی سطح پہلا نو سالہ منصوبہ تھا اور اس کے بعد کم از کم دس منصوبے اسی تسلسل سے جاری ہوئے۔ ان منصوبوں کا دورانیہ بارہ ماہ سے لے کر سات سال تک ہوتا تھا۔ اس عہد ثانی کے شروع ہوتے ہی عالم بہائی پہلے ہی سے امر میں فوج در فوج داخلے کی ابتداء کو دیکھ رہا تھا جس کی پیش بینی اس ملکوتی منصوبےکے تحریر کرنے والےکی تھی بعد میں آنے والے عشروں میں عقیدت مند مومنین کی نسلوں نے جو جامعہ اسم اعظم کے اندر پیدا ہوتی رہیں ، ملکوتی باغیچہ میں وہ حالات پیدا کرنے کی جدو جہد کی جن کی بڑے پیمانے پر برقرار رہنے والی ترقی کے لئے ضرورت تھی۔ اور اب اس عظیم الشان رضوان کے موقع پر ان مشقتوں کے کتنے کثیر ثمرات پیدا ہوئے ہیں! یہ معاملہ کہ کثیرتعداد میں لوگ جامعہ کی سرگرمیوں میں بکثرت اضافہ کرتے ہیں، وہ امر کی چنگاری کو پکڑتے ہیں اور تیزی سے کھڑے ہوتے ہیں کہ وہ منصوبےکی رہنما سرحدوں پر خدمات سر انجام دیں وہ محض ایک پیشنگوئی سے آگے بڑھے ہیں جن کا سہارا ایمان بنا ہے اور وہ بار بار ظاہر ہونے والی حقیقت بن گئے۔ ایسی اعلانیہ اور نظر آنے والی ترقی تقاضا کرتی ہے کہ اسے امر کی تاریخ کے صفحات میں نقش کیا جائے۔ ہم مسرور دلوں کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ حضرت سرکار آقا کے ملکوتی منصوبے کا تیسرا عہد شروع ہو گیا ہے۔ سطح بہ سطح اور عہد بعہد آپ کے منصوبے منکشف ہوتے رہیں گے حتیٰ کہ ملکوت کی روشنی ہر دل کو منور کر دے گی۔

٭٭٭٭

محبوب دوستوں، اس پانچ سالہ منصوبے کا کوئی جائزہ جس نے ملکوتی منصوبے کے دوسرے عہد کو تکمیل تک پہنچایا اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس مصیبت کا تذکرہ نہ کیا جائے جو اس کے آخری سال میں نمودار ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ اس عرصےمیں باہمی رابطوں پر پابندیاں جو بیشتر ممالک میں کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی تھیں جامعہ کی اجتماعی جدو جہد کو ایسی سنگین ضرب لگا سکتی تھیں جس سے بحالی میں کئی سال لگ جاتے لیکن دو وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہوا۔ ایک بہائیوں کو ہر جگہ فرض کا یہ احساس تھا کہ اُنہوں نے نوع بشر کی خدمت کرنا ہے خصوصاً تباہی اور مصیبت کے وقت میںتو اور ہی زیادہ۔ دوسری وجہ عالم بہائی کی صلاحیت میں اضافہ تھا کہ اس شعور کا اظہار کیا جائے۔ کئی سالوں سے اس بات کا عادی ہوتے ہوئے کہ منظم اقدامات کے نمونوں کو اختیار کیا جائے احباب اپنی تخلیقی قوتوں اور احساس کو آگے لے آئے تاکہ اس نادیدہ بحران پر قابو پایا جا سکے جبکہ یہ یقینی بنایا گیا کہ وہ جو نئے طریقے اختیار کریں وہ اس دائرۂ عمل سے ہم آہنگ ہوں جس پر اُنہوں نے یکے بعد دیگرے آنے والے منصوبوں میں کامل رہنے کے لئے عمل در آمد کیا ہے۔ ایسا ان مشکلات کو نظر انداز کرنے کے لئے نہیں ہے جو ہر ملک کے بہائی اپنے ہم وطنوں کی طرح برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن تمام مشکلات کے پورے عرصے کے دوران مومنین اپنے مقصد پر مرتکز رہے۔ وسائل ان جامعات کی طرف ارسال کئے گئے۔جہاں انتخابات ممکن تھے وہاں ہوئے، اور تمام حالات میں امراللہ کے اداروں نے اپنے وظائف سرانجام دیئے۔ حیرت انگیز اقدام اٹھائے گئے ہیں۔ محفل روحانی ملّی ساؤٹومے اور پرنسی پے اس رضوان پر دوبارہ قائم کر دی جائے گی بیت العدل اعظم الہی کے دو جدید ستون کھڑے کئے جائیں گے یعنی محفل روحانی ملّی کروشیا جس کا صدر دفتر زاگریب میں ہو گا۔ اور محفل روحانی ملّی تیمولیسٹے جس کا صدر دفتر ڈلی میں ہو گا۔

اور اس طرح ایک سالہ منصوبے کی ابتداءہوتی ہے۔ اس کا مقصد اور اس کے تقاضے پہلے ہی ہمارے اس پیغام میں تفصیلاً بیان ہو چکے ہیں جو یوم میثاق پر ارسال کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ اگرچہ مختصر ہے لیکن عالم بہائی کو نو سالہ منصوبے کے لئے تیار کرنے کو کافی ہو گا جو اس کے بعد جاری ہو گا۔ ایک خصوصی قوت کا حامل عرصہ جو ملکوتی منصوبے کی الواح کے تحریر کئے جانے کے سو سال بعد آیا ہے وہ جلد ہی حضرت عبد البہاء کی صعود کی صد سالہ برسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے گا جو دورِ تکوین کی پہلی صدی کی تکمیل کی اور دوسری صدی کی ابتداء کی نشاندہی کرے گا۔ مومنین کی جماعت اس نئے منصوبہ میں اس وقت داخل ہو گی جب نوع بشر اپنے خطرات سے دوچار ہونے کےبعد اس ضرورت کو سمجھے گی کہ عالمی للکاروں کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون اور ہمکاری ضروری ہے ۔ تاہم ابھی تک جاری مقابلہ بازی، ذاتی مفاد پرستی، تعصب، تنگ ذہنی کی عادات اتحاد کی طرف پیش رفت میں رکاوٹ ڈالتی ہیں باوجود اس کے کہ معاشرےکے افراد کی روز افزوں تعداد اپنے الفاظ اور اعمال سے یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ بھی نوع انسانی کی جبلی وحدت کی عظیم تر قبولیت کی تمنا کرتے ہیں ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اقوام کا خاندان اپنے اختلافات کو مشترکہ بھلائی کی خاطر ایک طرف رکھ دینے میں کامیاب ہوں۔ ان بے یقینیوں کے باوجود جو آنے والے مہینوں پر چھائی ہیں ہم حضرت بہاء اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ ان تائیدات کی جنہوں نے آپ کے پیروکاروں کو اتنے عرصے سے سہارا دے رکھا ہے ان میں زیادہ کثرت آئے تاکہ تم اپنے مشن میں بہت آگے تک بڑھو اورتمہارے سکون میں کوئی اضطراب دنیاوی ہنگاموں سے پیدا نہ ہو جن کی آپ کے شفا بخش پیغام کے لئے ضرورت پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید ہو گئی ہے۔

عزیزو محبوب دوستو!

ہم ایک ایسے سماج کو مخاطب کرتےہوئے انتہائی مسرت محسوس کرتے ہیں جس کی اعلیٰ ذہنیت اور بلند عزم اس کے اعلیٰ مقاصد کے شایانِ شان ہے۔ آپ سب کے لیے ہماری محبت کس قدر عظیم ہے اور ہماری روحیں کس قدر بلند پرواز ہوتی ہیں جب ہم آپ کی مخلصانہ اور پُر عقیدت کاوشوں کو دیکھتے ہیں جوآپ حضرت بہاءاللہ کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کرنے اور ایک پیاس سے نڈھال دنیاکو ظہور ِ جمال ِمبارک کے حیات بخش چشمے پیش کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ آپ کاقوی احساسِ مقصد واضح اور نمایاں ہے۔ توسیع و تحکیم، سماجی اقدام اور معاشرے کے مکالمات میں شرکت تیزی سے پیشرفت کر رہے ہیں اور ان اقدامات میں موجود فطری ارتباط کلسٹر کی سطح پر ہمیشہ سے زیادہ عیاں ہو رہاہے۔ یہ سب سے زیادہ واضح ان مقامات پر ہے جہاں بڑھتی ہوئی تعدادمیں افراد کاوشوں کے ایک سلسلے میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں جن میں سے ہر ایک امراللہ کی معاشرتی تعمیر کی قوت کے اجراء کا ایک ذریعہ ہے۔

ان بارہ مہینوں میں جب سے نو سالہ منصوبے کا آغاز ہوا ہے ہم یہ دیکھ کر نہایت مسرور ہیں کہ کیسےاس عالمی روحانی مہم نے دوستوں کو حوصلہ افزائی اورجوش و ولولہ بخشا ہے اور عمل کے مخصوص خطوط کو قوتِ محرکہ فراہم کیا ہے۔ ایک چیز جو فوری توجہ کا مرکز رہی ہے وہ ایسے منصوبوں کا اجرا ہے جو یہ یقینی بنا سکیں کہ ہر ملک اور ہر علاقے میں کم از کم ایک ایسا کلسٹر ابھر ے جو تیسرے سنگِ میل کو پار کرچکا ہو یعنی ایک ایسی جگہ جہاں بڑی تعدادمیں افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ایک متحرک سماجی زندگی میں اعانت کر رہے ہیں۔ البتہ اس بات سے واقف رہتے ہوئے کہ اس پچیس سالہ عرصے کا ہدف دنیا کے ہر کلسٹر میں بڑھوتری کا ایک زوردار پروگرام قائم کرنا ہےمومنین نے امراللہ کو نئے کلسٹروں تک پہنچانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پہلے سے موجود بڑھوتری کے پروگراموں میں بھی اپنی کوششوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ دنیا کے تمام حصوں میں مہاجرین کے قیام کے امکانات کی بلند تر آگاہی موجود ہے ۔ کئی فداکار نفوس ان امکانات کا جواب دینے کے بارے میں سوچ بچار کررہے ہیں اور کئی پہلے ہی مہاجرتی نقاط پر جا چکے ہیں جن میں سے بیشتر اندرون ملک محازوں پر لیکن بڑھتی ہوئی تعداد میں بین الاقوامی میدان میں بھی جا ٹھہرے ہیں۔ یہ اُن کئی طریقوں میں سے ایک ہے، جیساکہ ہم نے امید کی تھی ، جن کے ذریعے ہر جگہ موجود دوستوں میں باہمی حمایت کے جذبے کا اظہار ہورہا ہے۔ ان سماجوں نے جہاں قوت پیدا ہوچکی ہے خود کو ایک اور مقام پر ہونے والی پیشرفت یعنی ایک اور کلسٹر، ریجن، ملک یا حتی کہ برِ اعظم کی حمایت کے لیے وقف کردیا ہے ۔ اس ضمن میں فاصلاتی طور پر بھی حوصلہ افزائی فراہم کرنے اور تجربات کو براہِ راست بانٹنے کے قابل ہوسکنے کے لیے تخلیقی ذرائع تلاش کیے گئے ہیں۔ اسی دوران ایک کلسٹر میں جو کچھ سیکھا جا رہا ہے اسےتحریر کرنے کے بنیادی طرزِ عمل کو وسیع پیمانے پر زیرِ عمل لایا جارہا ہے تاکہ انہیں مقامی سطح پر اور دیگر جگہوں میں کی جانے والی منصوبہ سازی کے لیے استفادہ کیا جاسکے۔ ہم یہ دیکھ کر بےحد مطمئن ہیں کہ یہ سیکھنے کی جانب خاص توجہ مبذول کی جارہی ہےکہ کیسے انسٹیٹیوٹ کے پیش کردہ تعلیمی تجربے کے معیار کو کیسے افزوں کیا جائے۔ جب کسی سماج میں انسٹیٹیوٹ کا عمل جڑ پکڑتا ہے تو اس کے اثرات حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر زوردار سرگرمی کے ان مراکز کا مشاہدہ کریں جہاں کے باسی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کو ایک طاقتور آلہ کار کے طور پر دیکھنے لگے ہیں جو اُن کا اپنا ہے یعنی ایک ایسا آلہ کار جس کی مستحکم پیشرفت کی بنیادی ذمہ داری انہوں نے خود اٹھائی ہے۔ یہ پوری طرح جانتے ہوئے کہ امراللہ کے دروازے ہر کسی کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں مومنین یہ سیکھ رہے ہیں کہ کیسے ان افراد کی حوصلہ افزائی کریں جو داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ایسے نفوس کی ہمراہی اور ان کو دہلیز پار کرنے میں مدد کرنا ایک استحقاق اور خاص سرور کا باعث ہے۔ہر ثقافتی سیاق و سباق میں شناخت اور امراللہ سے تعلق کے اس اہم اور گونج دار لمحے کے تحرکات کے بارے میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ابھی باقی ہے۔ اور اتنا ہی نہیں ہے۔ جہاں کئی کلسٹروں میں معاشرتی کایاپلٹ میں اعانت کرنے کے لیے کوششیں اپنی ابتدائی مراحل میں ہیں محافلِ روحانی ملیہ مشاورین کی موثر اور ہمیشہ رہنے والی حمایت کے ساتھ فعال انداز میں یہ سیکھنے کی کھوج لگا رہےہیں کہ یہ کوششیں سماج سازی کے عمل سے کس طرح برپا ہوتی ہیں۔ خاندانوں کے گروہوں (groups of families) اور سماجوں میں ایک آبادی کی معاشرتی اور مادی بھلائی کے بارے میں گفتگوئیں پروان چڑھائی جارہی ہیں جبکہ دوستوں نے اُن بامعنی مکالمات میں شرکت کرنے کے طریقے بھی تلاش کرنا شروع کیے ہیں جو ان کے قرب وجوار میں تہہ کشا ہو رہے ہیں ۔

ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس کے مابین جوانوں کے اقدامات درخشاں انداز میں روشن ہیں۔ غیر فعال انداز میں تاثیر(influence) کو جذب کرنے والے ہونا تو دور، چاہے تاثیر نقصاندہ نہ ہو یا اس کے برعکس، جوانوں نے منصوبے کے بےباک اور صاحبِ ادراک مرکزی کردار کے طور پر خود کو ثابت کیا ہے۔ جہاں ایک سماج نے انہیں اس روشنی میں دیکھا اور ان کی پیشرفت کے لیےحالات فراہم کیے وہاں جوانوں نے خود میں دکھائے گئے اعتماد کو بخوبی ثابت کیا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کو امراللہ کی تبلیغ کر رہے ہیں اور خدمت کو زیادہ بامعنی دوستیوں کی بنیاد بنا رہے ہیں۔ اکثر ایسی خدمت اپنے سے کم سن تر نوجوانوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کی شکل اختیار کرتی ہے جس میں انہیں نہ صرف اخلاقی اور روحانی تربیت دی جاتی ہے بلکہ بیشتر اوقات ان کی تدریسی تعلیم میں بھی معاونت کی جاتی ہے۔بہائی جوان جن پر انسٹیٹیوٹ کے عمل کی مقدس ذمہ داری عائد ہےہماری دیرینہ آرزؤں کو پورا کر رہے ہیں۔

ان تمام کوششوں کی ترتیبات ایک نہایت غیر مستحکم اور غیر یقینی سے بھرپور زمانہ ہے۔ ایک عمومی اعتراف یہ ہے کہ دورِ حاضر کے معاشرتی ڈھانچےموجودہ مشکلات میں انسانیت کی ضروریات کا جواب دینے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ بہت کچھ جسے ہمیشہ یقینی اور غیر متزلزل تصور کیا جاتا تھا اب اس پر سوال اٹھ رہے ہیں اور نتیجتاً پیدا ہونے والا اضطراب وحدتِ نظر کی خواہش کا موجب بن رہا ہے۔ اتحاد، مساوات اور انصاف کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں کی ہم آہنگی یہ دکھاتی ہیں کہ بے شمار لوگ اپنے معاشروں کے لیے یہی آرزوئیں رکھتے ہیں۔ البتہ جمالِ مبارک کے ایک پیروکار کے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ قلوب انسانی ان روحانی اقدار کی آرزو کریں جو آپ نے پیش فرمائے۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود یہ نہایت قابلِ ذکر ہے کہ ایک ایسے سال کے دوران جب انسانیت کی اجتماعی پیشرفت کے امکانات بےحد تاریک نظر آتے تھے امراللہ کی روشنی حیرت انگیز درخشانی کے ساتھ دس ہزار سے زائد کانفرنسوں میں چمکی جن میں تقریباً ڈیڑھ ملین لوگوں نے شرکت کی اور جو اُنہی اقدار کو فروغ دینے کے ذرائع پر مرتکز تھیں۔ حضرت بہاءاللہ کا نظریہ اور انسانیت کے لیے آپ کی نصائح دنیا کی اصلاح کے لیے متحد ہو کر کام کرنے پر مبنی ہیں اور یہی وہ محور تھا جس کے گرد معاشرے کے مختلف عناصر اشتیاق کے ساتھ اکٹھا ہوئے۔ اور بے شک یہ ہمارے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ جیسا کہ حضرت عبدالبہاء فرماتے ہیں کہ’’ ان ملکوتی تعلیمات میں دنیا کا ہر سماج اپنی عظیم ترین آرزؤں کا اظہار پاتا ہے۔‘‘ انسانیت کے بعض خیرخواہ شاید پہلے پہل ایک جائے پناہ اور ایک مفلوج و مجروح دنیا سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہائی سماج کی جانب منجذب ہوتے ہوں گے۔ البتہ ایک پناہ گاہ سے بڑھ کر یہاں وہ مقرب نفوس کو مل کر دنیا کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے جدوجہد کرتا پاتے ہیں۔

جغرافیائی طور پر وسیع کانفرنسوں کے ذریعے منصوبے کو ملنے والے بے مثال تحرک یا ان میں شرکت کرنے والوں کی مسرت اور جوش و خروش کے ان دلی جذبات کے متعلق بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ لیکن ان چند سطروں میں ہم اس جانب توجہ مبذول کرنا چاہتے ہیں کہ امراللہ کی پیشرفت میں ان کی کیا اہمیت تھی۔ یہ کانفرنسیں ایک ایسے بہائی سماج کی عکاسی تھیں جو اشتراک اور قرابت داری پر نظر کرتےہیں اختلافات پر نہیں۔ اس طرزِ نظر نےان اجتماعات میں جن میں سب کا خیرمقدم کیا گیا نوسالہ منصوبے پر فکر و تدبر کرنا فطری بنا دیا ۔ دوستوں نے اپنے معاشروں کے لیے منصوبے کے مضمرات کے بارے میں نہ صرف افراد اور خاندانوں کے ساتھ مل کر سوچا بلکہ مقامی لیڈروں اور با اقتدار شخصیات کے ساتھ بھی۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک مقام پر اکٹھا کرنے سے ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے تحت روحانی اور معاشرتی پیشرفت کے لیے ایک کایاپلٹ گفتگو ہوسکی، ایک ایسی گفتگو جو دنیا بھر میں تہہ کشا ہے۔ ایسے اجتماعات جو بیک وقت کھُلے، روح پرور اور بامقصد ہوں ایک کلسٹر کی سماجی پیشرفت کے پھیلتے ہوئے نمونے کے لیے جو خاص اعانت کر سکتے ہیں وہ بہائی اداروں کے لیے ایک قیمتی سکھلائی ہے جسے انہیں آئندہ مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

اور اس طرح جو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کی اہمیت کے بارے میں ایک تازہ نقطۂ نظر اور عمیق بصیرت کے ساتھ مومنین کی جماعت اب منصوبے کے دوسرے سال میں داخل ہوتی ہے ۔ اقدامات کو جب معاشرتی تعمیر کی قوت کی روشنی میں دیکھا جائے جو وہ جاری کرتے ہیں تو کس قدر مختلف نظر آتے ہیں! یہ بسیط پیش منظر اس بات کا امکان پیدا کرتا ہے کہ ایک پائیدار سرگرمی کو ایک جدا اور تنہا خدمت کے عمل یا محض ایک عددی نقطے سے کہیں زیادہ بڑھ کردیکھا جائے۔ ایک کے بعد ایک مقام پراٹھائی جانے والی پیش قدمیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کیسے ایک آبادی یہ سیکھ رہی ہے کہ اپنی پیشرفت کی راہ پر آگے بڑھنے کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری خود اٹھا سکے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی روحانی اور معاشرتی کایاپلٹ ایک قوم کی زندگی میں کئی انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔منصوبوں کے گزشتہ سلسلے میں یہ سب سے زیادہ واضح انداز میں روحانی تعلیم و تربیت اور اجتماعی عبادت کے فروغ میں دیکھی جاسکتی تھی۔منصوبوں کے حالیہ سلسلے میں دیگر عوامل پر بڑھتی ہوئی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو ایک سماج کی زندگی کو ارتقا ء بخشتے ہیں جیسے مثال کے طور پر صحتِ عامہ کی بہتری، ماحول کی نگہداشت یافنونِ لطیفہ کے مؤثر استعمال پر۔ ایک سماج کی بہتری کے ان تکمیلی پہلوؤں کی پیشرفت کے لیے جو چیز ضروری ہے وہ ان تمام میدانوں میں منظم سکھلائی حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے یعنی ایک ایسی صلاحیت جو تعلیمات سے ابھرنے والی بصیرتوں اورسائنسی تحقیق سے پیدا ہونے والی انسانی علم کے ذخیرے سے استفادہ کرتی ہے ۔ جیسے جیسے یہ صلاحیت بڑھے گی آنے والی دہائیوں میں بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کی جا سکیں گی۔

معاشرتی تعمیر کے اس وسیع شدہ نظریے کے دُور رس مضمرات ہیں۔ ہر سماج اس کے حصول کی جانب اپنی راہ پر گامزن ہے۔ لیکن ہر مقام پر پیشرفت میں ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کسی دوسرے مقام میں پیشرفت سے مشترک ہوں۔ ایک خصوصیت یہ ہے کہ جوں جوں صلاحیت میں اضافہ ہوتاہے اور ایک مقامی یا ملی سماج کی قوتوں کو ضربیں لگتی ہیں تووقت آنے پر ایک مشرق الاذکار کےقیام کے لیے لازم شرائط اور حالات جیسا کہ ہمارے رضوان ۲۰۱۲ کے پیام میں بیان تھا بالآخر پورے ہو جائیں گے۔ جیسا کہ ہم نے گزشتہ سال رضوان کے موقع پر اپنے پیام میں یہ ذکر کیا تھا کہ ہم وقتاً فوقتاً ان مقامات کا تعین کریں گے جہاں ایک بہائی معبد کی تعمیر کی جائے۔ ہم بے حد مسرور ہیں کہ اس موقع پر محلی مشارق الاذکار کے قیام کے لیے کنچنپور، نیپال اور مینی لونگا، زامبیا کا اعلا ن کرتے ہیں۔مزید براں ہم اعلان کرتے ہیں کہ کینیڈا میں ٹورانٹومیں قدیم ملی حظیرۃ القدس کے گرد و نواح میں ملی مشرق الاذکار کی تعمیر کی جائے۔یہ پراجیکٹ اور دیگر جن کا آغاز آئندہ ہوگا ہر سرزمین میں دوستوں کی جانب سے مختص کیے گئے مشرق الاذکار کے فنڈ (Temple Fund) میں کی جا نے والی حمایت سے استفادہ کریں گے۔

لامتناہی ہیں وہ عنایات جو ربِ رحیم نے اپنے محبوب نفوس پر مرحمت فرمائی ہیں۔ ندا بے حد عظیم ہے اور تناظر بے حد عالیشان۔ وہ دور جس میں ہم سب کو خدمت کے لیے پکار ا گیا ہے تیزی سے گزر رہا ہے۔ پس جذبات و احساسات سے بھرپور دعائیں ہم حضرت بہاءاللہ کے آستا نِ مقدس پر آپ کی جانب سے اور آپ کی انتھک کوششوں کے لیے ادا کرتے ہیں۔

عزیزو محبوب دوستو!

ایک معرکہ خیز نو سالہ کاوش کے دو برس تیزی سے گزر چکے ہیں۔ احبائے الہٰی نے اس کے اہداف کومستحکم طور پر دل میں بسا لیا ہے۔ پورے عالمِ بہائی میں اس بات کی سمجھ گہری تر ہوگئی ہے کہ سماج سازی کے عمل کو مزید پھیلانے اور عمیق معاشرتی کایا پلٹ لانے کے لیے کیا درکار ہے۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم دنیا کے حالات کو زیادہ سے زیادہ مایوس کن، اس کی تقاسیم کو زیادہ شدید تر ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔معاشروں کے اندر اور قوموں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی عوام الناس اور آبادیوں کو متعدد طریقوں سے متاثر کررہی ہے۔

یہ ہر باضمیر نفس سے ایک جواب کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم سب بخوبی آگاہ ہیں کہ اسمِ اعظم کا سماج معاشرے کی تکالیف سے اثرانداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے باوجود کہ اگرچہ یہ ان تکالیف سے اثرانداز ہوتا ہے یہ ان سے پریشان نہیں ہوتا، یہ انسانیت کے مصائب سے افسردہ ہے لیکن ان سے مفلوج نہیں ہوتا۔ سمیمِ قلب سے فکر مند ہونے سے ایسے سماجوں کی تعمیر کرنے کی پائیدار کوشش کی ترغیب ملنی چاہیے جو مایوسی کی بجائے امید اور تفرقہ کی بجائے اتحاد پیش کر سکیں۔

حضرت شوقی افندی نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ کیسے ’’انسانی امور کا بتدریج بگاڑ‘‘کا عمل ایک اور عمل کے ساتھ متوازی طور پر کارفرما ہے یعنی انضمام کا عمل جس کے ذریعے ’’انسانی نجات کا سفینہ‘‘ ، معاشرے کی ’’حتمی پناہ گاہ‘‘ تعمیر ہو رہی ہے۔ ہم یہ دیکھ کر نہایت مسرور ہیں کہ ہر ملک اور ریجن میں امن کے حقیقی عمل کار اس پناہ گاہ کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ ہم اسے محبت اللہ سے شعلہ ور ہونے والے ہر دل کی، نئے دوستوں کے لیے اپنے گھروں کو کھولنے والے ہر خاندان کی، ایک معاشرتی مسٔلے کا جواب دینے کے لیے حضرت بہاءاللہ کی تعلیمات سے مدد لینے والے ہمکاروں کی، باہمی حمایت کی ثقافت کو مستحکم کرتے ایک سماج کی، اپنی روحانی اور مادی پیشرفت کے لیے ضروری اقدامات کا آغاز کرنے اور انہیں برقرار رکھنا سیکھتے ہوئے ایک محلے یا دیہات کی، ایک نئی محفلِ روحانی کے ابھرنے کی عنایت حاصل کرتے ایک مقامی علاقے کی رودادوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

منصوبے کے طریقۂ کار اور آلۂ کار ہر نفس کو اس چیز میں ایک حصہ ڈالنے کا موقع دیتے ہیں جس کی آج کے دن انسانیت کو ضرورت ہے۔ لمحۂ حاضر کے امراض کے لیے عارضی مرحم دینے کے برعکس منصوبے کا اجراء وہ ذریعہ ہے جس سے نسلوں پر محیط تہہ کشاہونے والے طویل مدتی تعمیراتی عوامل ہر معاشرے میں حرکت میں لائے جارہے ہیں۔ یہ سب ایک فوری اور ناگزیر نتیجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے: ان لوگوں کی تعداد میں پائیدار اور تیز رفتار اضافہ ہونا ہوگا جو اپنا وقت، اپنی توانائی اور اپنی توجہ اس کام کی کامیابی کے لیے وقف کر رہے ہیں۔

حضرت بہاءاللہ کے وحدتِ عالمِ انسانی کے اصول کے سوا دنیا کہاں ایک ایسا نظریہ پاسکتی ہے جو اس قدر وسیع ہو کہ اس کےتمام متنوع عناصر کو متحد کرسکے؟ اس نظریے کو ایک ایسے نظام کا جامہ پہنانے کے علاوہ جو تنوع میں اتحاد پر مبنی ہو دنیا کیسے ان معاشرتی شگافوں کا علاج کرسکتی ہے جو اسے منقسم کرتے ہیں؟ اور کون وہ خمیر بن سکتا ہے جس کے ذریعے دنیا کی اقوام ایک نئی طرزِ حیات اورپائیدار امن کی جانب راستہ کشف کر سکتے ہیں؟ پس سب کے سامنے دوستی کا، عمومی کاوش کا، مشترکہ خدمت کا اور اجتماعی سکھلائی کا ہاتھ بڑھائیں اور متحد ہو کر آگے بڑھیں۔

ہم اس بات سے باخبر ہیں کہ کسی معاشرے میں کس قدر تحرک اور قوت پیدا ہوجاتی ہے جب اس کے جوان حضرت بہاءاللہ کے نظریے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور منصوبے کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ اور چنانچہ کس قدر بے پناہ مہربانی، جرأت اور خدا پر مکمل بھروسے کے ساتھ بہائی جوانوں کو اپنے ساتھیوں تک پہنچنے اور انہیں اس کام میں شامل کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ سب کو مواج ہونا ہے لیکن جوانوں کو بلند پرواز ہونا ہے۔

موجودہ گھڑی کی فوری نوعیت کو اس خاص مسرت کو ماند پڑنے نہیں دینا چاہیے جو خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔خدمت کی ندا ایک روح پرور اور ہمہ گیر پکار ہے۔ یہ ہروفادار روح کو منجذب کرتی ہے ، ان کو بھی جو فکرمندیوں اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان تمام کاموں میں جن میں وہ وفادار روح مشغول ہے گہری عقیدت اور دوسروں کی بھلائی کے لیے عمر بھر کی فکرمندی دریافت کی جاسکتی ہے۔ ایسی صفات بےشمار تقاضوں سے بھری ایک زندگی کو ہم آہنگی بخشتی ہیں۔ اور کسی شعلہ ور دل کے لیے سب سے زیادہ شیریں لمحات وہ ہوتے ہیں جو وہ اپنے روحانی بہن بھائیوں کے ساتھ اس ایک ایسے معاشرے کی ضروریات پورا کرتے ہوئےگزارتے ہیں جو روحانی نشوونما کی محتاج ہے۔

عتباتِ مقدسہ میں لبریز قلوب کے ساتھ ہم آپ کو برپا کرنے اور اپنی راہوں پر آپ کی تربیت کرنے پر حضرت بہاءاللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور جمالِ ابہیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ سب پر اپنی عنایت نازل فرمائیں۔

دنیا بھر کے بہائیوں کے نام

عزیزو محبوب دوستو!

اب جب کہ نو سالہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے اختتام میں صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے، ہم اس کی پیشرفت کی اطلاع دیتے ہوئے سراپا اشتیاق ہیں کہ کس طرح پاکیزہ کاوشوں کی درخشاں مثالوں کے ذریعے امراللہ کا پیش کردہ نظریہ زیادہ سے زیادہ دلوں کو امید سے معمور کر رہا ہے۔

بڑھوتری کا عمل آگے بڑھتا جارہا ہے۔ جوں جوں امراللہ کا بیج نئی کونپلیں لے کر نمودار ہوا ہے اور متعدد نفوس کے ساتھ بیک وقت مصروفِ عمل ہونے کی صلاحیت ابھرنے لگی ہے ،کئی متنوع خطوں میں نمایاں کامیابیاں سامنےآئی ہیں جہاں اس سے قبل خاطرخواہ ترقی مشاہدے میں نہ آئی تھی ۔یہ پیش قدمیاں اکثر ان عقیدت مند مہاجرین کے ذریعے ممکن ہوئی ہیں جو اپنے پروردگار کی محبت سے شعلہ ور قلوب کے ساتھ بےحد متاثر کن تعداد میں اندرون اور بیرونِ ملک محاذوں کی جانب لپکے ہیں۔ ان کلسٹروں میں جہاں بڑھوتری کا ایک پروگرام پہلے ہی شروع ہوچکا تھا وہاں تخلیقیت اور ہوشمندی کے ساتھ ان تسلیم شدہ لائحہ عمل اور عمل کے خطوط کو لاگو کرنے پر از سرِ نو توجہ دی جارہی ہے جو دوستوں کو دوسرے اور تیسرے سنگِ میل کو عبور کرنے کے قابل بنائیں گی۔ اور ثابت شدہ قوت والے کلسٹروں میں امراللہ کی معاشرتی تعمیر کی قوت کی کرنیں زیادہ سے زیادہ عیاں ہو رہی ہیں جوں جوں بہائی زندگی کامتحرک اور کایاپلٹ انگیز نمونہ پُرجوش نفوس کا بڑھتا ہوا دستہ اپنا رہا ہے۔

اسی اثنا میں مقامی بنیادی سطح پر معاشرے کے ساتھ بین العمل نے حیرت انگیز پیش قدمیاں اختیار کی ہیں۔ تعلیم پر مرتکزسماجی سطح پر کی گئیں سماجی اقدام کی پہل قدمیوں کو سب سے زیادہ تیزی سے ضربیں لگی ہیں ، لیکن ذراعت، صحت، ماحولیات، خواتین کی بااختیاری اور فنونِ لطیفہ جیسے دیگر میدانوں میں پہل قدمیوں نے بھی پیشرفت کی ہیں۔ اس قسم کی پیش قدمیاں سب سے زیادہ مضبوط کلسٹروں میں سب سے زیادہ نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں جہاں کئی دیہات یا محلے اور کبھی کبھار ایک گلی یا ایک گنجان آباد عمارت ، ایک ایسی آبادی کا گھر ہے جو امراللہ کی تعلیمات کو عملی حقائق میں ڈھالنے سے ہونے والے روح پرور نتائج کا تجربہ کر رہی ہے۔ بعض مقامات پر مقامی سطح پر بچوں کی تعلیم و تربیت یا سماجی ترقی کی ذمہ داری رکھنے والے سماجی رہنما اور افراد نہ صرف بہائیوں کی جانب نقطۂ نظر کے لیے رجوع کر رہے ہیں بلکہ عملی حل کی تلاش میں باہمی تعاون کے خواہاں بھی ہیں۔علاوہ ازیں، ہمیں یہ دیکھ کر بےحد مسرّت ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بعض اہم مکالمات سے متعلق بہائی طرزِ فکر کو بڑھتی ہوئی توجہ اور تحسین حاصل ہو رہی ہے۔

نو سالہ منصوبہ ایک وسیع عالمی سکھلائی کے عمل پر انحصار کرتا ہے جو بولیویا کے پہاڑی علاقوں سے لے کر سڈنی کے مضافات تک یکساں طور پر مؤثر ہے۔سکھلائی کے اس عمل نے ایسےلائحۂ عمل اور عوامل پیدا کیے ہیں جو ہر طرح کی ترتیبات میں ڈھلنے کے قابل ہیں۔یہ منظم ہے، یہ نامیاتی ہے، یہ ہمہ گیر ہے۔ یہ خاندانوں کے درمیان، پڑوسیوں کے درمیان، جوانوں کے درمیان اور ان سب کے درمیان جو اس عظیم الشان مہم کے مرکزی کردار بننے کے لیے تیار ہیں ، ایسے روابط پیدا کرتاہےجو وقت کے ساتھ متحرک تعلقات میں تبدیل ہوجاتےہیں۔یہ ایسے سماج برپا کرتا ہے جو امکانات سے لبریز ہوتے ہیں۔یہ اُن بلند تمناؤں کی تکمیل کو ممکن بناتا ہے جو اُن لوگوں کے دلوں میں یکساں طور پر موجود ہیں جنہیں کبھی جغرافیائی،لسانی، ثقافتی یا سماجی رویّوں کے باعث ایک دوسرے سے جدا رکھا گیا تھا لیکن اب وہ حضرت بہاءاللہ کے اس عالمگیر پیغام کو سن کر اور اس پر لبّیک کہہ کر اکٹھے ہو گئے ہیں کہ ’’ایک دوسرے کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرو۔‘‘ اور یہ کلامِ الہٰی کی تازگی بخش تاثیر پر ،یعنی اس’’ متحد کنندہ قوت‘‘پر جو’’ نفوس کو متحرک اورعالم انسانیت کو جوڑنےاور منظم کرنے والی‘‘ہے ، اوراس پائیدار عمل پر، جسے یہ القاء بخشتا ہے ، مکمل طور پر انحصار کرتا ہے۔

ایک طوفانی آسمان کے اندھیرے کے سامنے کس قدر درخشاں ہے وہ روشنی جو آپ کے پُر عقیدت کوششوں سے چھلکتی ہے! جیسے جیسے طوفان دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، انسانیت کو سہارا دینے والی پناہ گاہیں ممالک، ریجنوں اور کلسٹروں میں تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ لیکن بہت کچھ کرنے کو ہے۔ ہر ملی سماج نے منصوبے کے اس افتتاحی مرحلے کے دوران کی جانے والی پیشرفت کے لیے اپنی توقعات رکھی ہیں۔ وقت گزر رہا ہے۔ محبوب دوستو اور تعلیماتِ الہیہ کے پھیلانے والو اور جمالِ مبارک کے جوانمردو!آپ کی کوششیں اب درکار ہیں۔ آئندہ رضوان سے قبل ان گزرتے مہینوں میں کی جانے والی ہر کاوش اسمِ اعظم کے سماج کواس کے لیے بہتر طور پر لیس کرے گی جو منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حاصل کیا جانا ہے۔ خدا کرے کہ آپ کو کامیابی نصیب ہو۔ اس کے لیے ہم پروردگارِ مقتدر سے التجا کرتے ہیں، اس کے لیے ہم اُس کی یقینی مدد کی دعا کرتے ہیں، اس کے لیے ہم اُس سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنے پسندیدہ ملائک آپ میں سے ہر کی مدد کو بھیجے۔